نوجوان اسٹینڈ اَپ کامیڈین سمے رینا جو ’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ نامی اپنے پروگرام میں اپنے اور شرکاء کے قابل اعتراض تبصروں کی وجہ سے تنازعات میں گھر گئے تھے، کو منگل کو پھر سپریم کورٹ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 10:19 AM IST | New Delhi
نوجوان اسٹینڈ اَپ کامیڈین سمے رینا جو ’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ نامی اپنے پروگرام میں اپنے اور شرکاء کے قابل اعتراض تبصروں کی وجہ سے تنازعات میں گھر گئے تھے، کو منگل کو پھر سپریم کورٹ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔
نوجوان اسٹینڈ اَپ کامیڈین سمے رینا جو ’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ نامی اپنے پروگرام میں اپنے اور شرکاء کے قابل اعتراض تبصروں کی وجہ سے تنازعات میں گھر گئے تھے، کو منگل کو پھر سپریم کورٹ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور کورٹ کو گمراہ کرنے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ انہیں اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ چیف جسٹس کی بنچ نے کہاکہ’’ سمے رینا نے عدالت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہمارے احکامات کی بے دھڑک خلاف ورزی کی۔ اگر آپ اپنے رویے کو درست کرنا نہیں جانتے یا معاشرے کے جذبات کا احترام نہیں کرتے تو پھر اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔‘‘سپریم کورٹ نے انتہائی برہمی کے ساتھ ابتدا میں ۱۰؍لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تاہم ان کے وکیل کی درخواست پر اسے کم کرکے۳؍ لاکھ روپے کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: میرے پاس دو ہی راستے تھے یا تو ٹوٹ جاتا یا اسے کہانی بنا دیتا: منور فاروقی
بنچ نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک وہ مطمئن نہ ہوئی تو جرمانہ بڑھا کر۳۰؍لاکھ روپے کر دیا جائے گا۔ بنچ نے کہا کہ یہ کہنا کہ گزشتہ روز تعمیل سے متعلق حلف نامہ داخل کیا گیا، درست نہیں کیونکہ ایسا کوئی حلف نامہ عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ شاید انہیں لگتا ہے کہ ملک سے باہر بیٹھ کر وہ عدالت کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ’’اب انہیں اس کا خمیازہ بھگتنے دیں۔ اگر یہ تکبر نہیں تو پھر آکسفورڈ ڈکشنری کی تعریف ہی بدلنی پڑے گی۔‘‘عدالت میں یہ سماعت ’کیور ایس ایم اے انڈیا فاؤنڈیشن‘ کی درخواست پر ہو رہی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ سمے نے ’’اسپائنل مسکولر ایٹروفی ‘‘(ایک موروثی بیماری) کے علاج کے بھاری اخراجات پر بے حسی پر مبنی تبصرے کئے اور اسسے متاثرشخص کا مذاق اڑایا۔درخواست میں’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ کے میزبان سمے رینا کے علاوہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز وپن گوئل، بلراج پرم جیت سنگھ، سونالی ٹھاکر اور نشانت جگدیش تنور کے لطیفوں پر بھی اعتراض کیا گیا۔عدالت نے گزشتہ سال سمیع رائنا کو ہدایت دی تھی کہ وہ ہر ماہ اپنی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی حوصلہ افزا کہانیوں پر مبنی فنڈ ریزنگ پروگرام منعقد کریں۔چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا تھاکہ’’یہ سزا نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری ہے۔ آپ معاشرے میں بااثر لوگ ہیں، اگر آپ کو بہت زیادہ شہرت ملی ہے تو اسے دوسروں کی بھلائی کے لیے بھی استعمال کریں۔‘‘ کیور ایس ایم اے فاؤنڈیشن نے سپریم کورٹ میں شکایت کی ہے کہ رائنا کے پروگراموں میں’’معذور‘‘ کی جگہ’’خصوصی صلاحیتوں کے حامل‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی اور عدالت کی ہدایت کے باوجود فاؤنڈیشن سے بھی رابطہ نہیں کیا گیا۔