کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ فرنویس کے دورِ حکومت میں مہاراشٹر میں ’جنگل راج‘ ہے، پولیس صرف اپوزیشن کے خلاف کارروائی کرنے اور چوراہوں پر ’وصولی‘ کیلئے تعینات۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 1:54 PM IST | Agency | Islamabad
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ فرنویس کے دورِ حکومت میں مہاراشٹر میں ’جنگل راج‘ ہے، پولیس صرف اپوزیشن کے خلاف کارروائی کرنے اور چوراہوں پر ’وصولی‘ کیلئے تعینات۔
فلم اداکار ٹائیگر شراف پر فائرنگ کےمعاملے پر اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور سخت سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ اس معاملے میں مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بھی فرنویس حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس واقعے نے ایک بار پھر ریاست میں قانون و انتظام پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ اگر ممبئی جیسے بڑے شہر میں دن دہاڑے کسی اداکار پر فائرنگ ہوتی ہے تو کیا پولیس انتظامیہ سو رہی ہے؟ بتایا جا رہا ہے کہ یہ حملہ لارنس بشنوئی گینگ نے کیا ہے، لیکن یہ گینگسٹر گجرات کی جیل میں بند ہے۔ اگر جیل میں رہتے ہوئے بھی وہ اس طرح کی وارداتیں انجام دے رہا ہے تو یہ حکومت کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو کھوکھلے اعلانات کرنے کے بجائے بشنوئی کو گرفتار کرکے ممبئی لانے، اس سے پوچھ گچھ کرنے اور اس کے خلاف مقدمہ چلانے کی ہمت دکھانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ: مقیم ہندوستانی تارکین وطن کا ایس آئی آر اورسی ای سی کیخلاف احتجاج
ریاست میں قانون و انتظام کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے سپکال نے مزید کہا کہ ممبئی پولیس کا دبدبہ اور اس کی ساکھ اب تاریخ بن چکی ہے۔ پولیس کی دھونس اب صرف اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں اور طلبہ کے خلاف کارروائی کرنے تک محدود رہ گئی ہے۔ مجرموں کے دلوں میں پولیس کا کوئی خوف نہیں رہا۔ صرف ممبئی ہی نہیں، بلکہ پونے، تھانے اور ناگپور میں بھی کھلے عام جرائم ہو رہے ہیں، لیکن وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فرنویس کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہ مہاراشٹر کی تاریخ کے سب سے غیر فعال وزیر داخلہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر بابا صدیقی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا، اداکار سلمان خان کے گھر پر حملہ ہوا اور فلم ساز روہت شیٹی کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان تمام واقعات میں بشنوئی گینگ کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔ اس کے باوجود اب تک اس مافیا سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی؟ مہاراشٹر پولیس کے ہاتھ کس نے باندھ رکھے ہیں؟ سپکال نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے اگست۲۰۲۳ء میں جاری کیے گئے ایک حکم کے مطابق، ضابطۂ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ۲۶۸؍ کا استعمال کرتے ہوئے لارینس بشنوئی کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت کسی بھی ریاست کی پولیس لارینس بشنوئی کو پوچھ گچھ کیلئے گجرات سے باہر نہیں لے جا سکتی۔ اس حکم کی ہر سال ایک سال کی مدت کے لیے تجدید کی جاتی ہے۔ سپکال کے مطابق، اسی وجہ سے بشنوئی کو تحفظ مل رہا ہے اور وہ جیل میں بیٹھ کر لوگوں کا قتل کروا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر حکومت کو مرکزی حکومت کی جانب سے اسے دیا گیا یہ قانونی تحفظ واپس لینے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔