انڈونیشیا نے ہاتھیوں کی سواری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ایسا کرنے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا ہے۔ یہ فیصلہ جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 11:01 AM IST | Jakarta
انڈونیشیا نے ہاتھیوں کی سواری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ایسا کرنے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا ہے۔ یہ فیصلہ جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے کیا گیا ہے۔
انڈونیشیا نے ہاتھیوں کی سواری پر پابندی لگا دی ہے اور ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے، جس نے جانوروں کی فلاح و بہبود کی بنیاد پر مقبول سیاحتی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انڈونیشیا نے شدید خطرے سے دو چار سماترا اور بورین ہاتھی کو بچانے کیلئے پہلے دسمبر میں ملک گیر پابندی عائد کی ہے اور اس سال کے آغاز سے باقاعدگی کے ساتھ سرکاری حکام اس کے بتدریج تعمیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر انڈونیشیائی عوام کی طرف ہاتھیوں کی سواری پر پابندی کے مطالبے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب بھی انڈونیشیا کے لوگ ملک میں کئی مشہور سیاحتی مقامات پر خصوصاً بالی میں ایسی سرگرمیاں جاری ہونے کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعے حکام کو فراہم کر رہے ہیں۔ بالی نیچرل ریسورسز کنزرویشن ایجنسی کے مطابق، بالی کے تمام تحفظاتی مقامات، بشمول بالی چڑیا گھر اور میسن ایلیفینٹ پارک اینڈ لاج، نے باضابطہ طور پر جنوری کے آخر تک ہاتھیوں کی سواری پر پابندی لگا دی ہے۔ منگل کو ایجنسی کے سربراہ رتن ہینڈراتموکو نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’’ہماری حالیہ نگرانی کی بنیاد پر، بالی میں تمام پانچ تحفظاتی مقامات نے اس کی تعمیل کر دی ہے اور اب وہ سیاحوں کیلئے ہاتھی کی سواری کی پیشکش نہیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میلبورن میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی بے حرمتی اور چوری، ہندوستان نے مذمت کی
واضح ہو کہ ہاتھی کی سواری بالی میں ایک مقبول سیاحتی سرگرمی ہے، گزشتہ برس تقریباً ۷۰؍ لاکھ غیر ملکی سیاح اس سرگرمی سے لطف اندوز ہوئے ہیں۔ ہاتھی کی سواری کا مطالبہ بڑی گرم جوشی کے ساتھ سیاحوں کی طرف سے کیا جاتا ہے، اگرچہ انہیں صرف ۱۰؍ یا ۱۵؍ منٹ ہی سواری کا موقع ملے۔ ہینڈراتموکو نے کہا ہے کہ ’’شاید یہ ان لوگوں کیلئے ایک موقع ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی آسائش دکھا سکیں اور کچھ ایسا کر سکتے ہیں جو بہت سے لوگ نہیں کر سکتے۔‘‘ مزید کہا کہ ’’ہم اپنے آن لائن ساتھیوں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں ہمیں نگرانی کرنے کی یاد دہانی کرائی ہے۔ ہم اپنا کام بہتر طور پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انڈونیشیا کے حکام تحفظاتی مقامات کی انتظامیہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جانوروں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں، زائرین کے لیے تعلیمی سرگرمیاں پیش کریں اور براہ راست جسمانی رابطے کے بغیر جنگلی حیات کے مشاہدے جیسے جدید اور غیر استحصالی پرکشش مقامات کا نظم کریں۔
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ سے بذریعہ بس۱۲؍ فلسطینیوں کی غزہ واپسی، محدود بحالی کا آغاز
نومبر میں، انسانی حقوق کے گروپ پیپل فار دی ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیملز کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بالی میں ہاتھیوں کو معمول کے مطابق زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے اور تیز نوک والے اوزار سے مارا جاتا ہے تاکہ انہیں سیاحوں کی سواریوں کیلئے مجبور کیا جا سکے۔ ایشیا میں پیٹا (پی ای ٹی اے) کے صدر جیسن بیکر نے کہا ہے کہ ’’یہ کار روائیاں ثابت کرتی ہیں کہ انڈونیشیا جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہے اور ہاتھیوں کی سواری پر پابندی لگانے والا ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔‘‘ عرب نیوز کو دیئے گئے ایک بیان میں پیٹا نے کہا ہے کہ ’’یہ پابندی ہاتھیوں کے علاج کو بہتر بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔‘‘ مزید کہا کہ ’’ہم پر امید ہیں کہ نئی ہدایات مستقبل میں نقصاندہ سرگرمیوں سے بچنے کیلئے ایک فریم ورک فراہم کریں گی۔ ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی ہاتھیوں کے کیمپ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں، تھائی لینڈ انہیں میں سے ایک ملک ہے۔ پیٹا نے کہا ہے کہ ’’ہم تھائی حکومت اور دیگر ممالک مثلاً نیپال، لاؤس اور ہندوستان انڈونیشیا جیسا قانون نافذ کریں۔