امریکی عدالت نے اڈانی پر عائد الزامات کو ختم کرتے وقت تشویش ظاہر کی کہ محکمہ انصاف نے اڈانی کے وکیلوں کی باتوں پراعتماد کیا۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 1:28 PM IST | Agency | Washington
امریکی عدالت نے اڈانی پر عائد الزامات کو ختم کرتے وقت تشویش ظاہر کی کہ محکمہ انصاف نے اڈانی کے وکیلوں کی باتوں پراعتماد کیا۔
امریکہ کی ایک عدالت نے ہندوستان کے سب سے امیر صنعتکار گوتم اڈانی کو رشوت اور دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں بری کر دیا ہے۔ یہ وہی معاملہ ہے جس میں اڈانی کی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اور اس کی وجہ سے وزیر اعظم مودی کے دبائو میں ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ۲۰۲۴ء میں اڈانی پر الزام لگا تھا کہ انھوں نے توانائی کے ایک پروجیکٹ کیلئے ہندوستانی حکام کو رشوت دی اور اس تعلق سے امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔ اڈانی اور ان کی کمپنی نے اس الزام کی کئی بار تردید کی۔ اڈانی نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سوئزرلینڈ: شدید گرمی اور خشک سالی سے چارے کی قلت، سوئس پنیر سازی بحران کا شکار
امریکی ڈسٹرکٹ جج نیکولس گرافز نے ۴۷؍ صفحات پر مشتمل فیصلے میں محکمۂ انصاف کی اڈانی پر عائد الزامات کو ختم کرنے کی درخواست منظور کر لی لیکن اس فیصلے تک پہنچنے کے طریقۂ کار پر سخت تنقید بھی کی۔انھوں نے کہا کہ محکمۂ انصاف کے پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل آر ٹرینٹ میکوٹر نے مقدمے کو خارج کرنے کے معاملے میں اڈانی کے وکلاء کے ساتھ مل کر کام کیا لیکن استغاثہ کے وکلا اور تفتیش کاروں سے مشاورت نہیں کی جنھوں نے یہ مقدمہ قائم کیا تھا۔جج گرافز نے اس عمل کو ’انتہائی غیر معمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر میکوٹر نے اپنی رائے کو ان حکام کی رائے پر ترجیح دی جو براہِ راست تحقیقات میں شامل تھے۔ مئی میں محکمۂ انصاف نے الزامات ختم کرنے کی درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے کا بڑا حصہ امریکہ سے باہر پیش آیا تھا جس کے باعث مقدمے کی پیروی مشکل تھی۔یہ درخواست اس وقت کی گئی جب اڈانی نے رابرٹ جے جیوفرا جونیئر کی قیادت والی ایک نئی قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کیں جو امریکی قانونی فرم سلوین اینڈ کرو مویل کے شریک چیئرمین اور ڈو نالڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بینکنگ شعبہ میں اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا منصوبہ
اطلاع کے مطابق جیوفرا نے ۲۰۲۶ء کے آغاز میں محکمۂ انصاف کے حکام سے ملاقات کر کے مقدمے کے تعلق سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔جج گرافز نے ابتدا میں حکومت کی درخواست کو قبول کرنے سے گریز کیا تھا۔ جون میں انھوں نے کہا کہ الزامات واپس لینے کے حکومتی موقف کی وضاحت ناکافی ہے اور حکام کو مزید معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا۔انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا اڈانی کا امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالر (۷ء۵؍ ارب پاؤنڈ) کی سرمایہ کاری اور ۱۵؍ ہزار ملازمتیں پیدا کرنے کے وعدے کی وجہ سے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے؟اڈانی نے نومبر ۲۰۲۴ء میں ڈو نالڈ ٹرمپ کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ایک پوسٹ میں اس سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ اڈانی کے وکلا نے اس مقدمے کے بارے میں محکمۂ انصاف کے ساتھ گفتگو کے دوران اس سرمایہ کاری کا ذکر کیا تھا۔ حالانکہ اڈانی کے وکلا نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری الزامات ختم کرنے کے بدلے میں نہیں کی گئی ہے۔بالآخر جج گرافز اس نتیجے پر پہنچے کہ اس سرمایہ کاری نے محکمۂ انصاف کے فیصلے پر اثر نہیں ڈالا تھا۔اڈانی کے خلاف الزامات کو مستقل طور پر خارج کیا گیا جسکا مطلب ہے کہ انھیں دوبارہ عائد نہیں کیا جا سکتا۔اڈانی اس کارروائی کے دوران کبھی بھی امریکی عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔بہر حال کئی بنیادوں پر یہ پورا معاملہ امریکی حکومت اور اڈانی کے درمیان ہوئی مفاہمت ہی کا معلوم ہوتا ہے۔