Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوئزرلینڈ: شدید گرمی اور خشک سالی سے چارے کی قلت، سوئس پنیر سازی بحران کا شکار

Updated: August 17, 2026, 9:57 PM IST | İstanbul

شدید گرمی اور خشک سالی نے سوئزرلینڈ کے پنیر سازوں اور ڈیری فارمرز کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ گرمی کے باعث گائیں کم دودھ دے رہی ہیں، جبکہ گھاس اور چارے کی قلت سے پنیر کی پیداوار بھی متاثر ہونے لگی ہے۔

A man works in a cheese factory. Photo: INN
ایک شخص پنیر فیکٹری میں کام کررہا ہے۔ تصویر: آئی این این

جاری ہیٹ ویوز اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خشک سالی کی صورتحال سوئزرلینڈ کے پنیر بنانے والوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہے، جس کے باعث گائیں کم دودھ دے رہی ہیں اور کسانوں کو چارے کی قلت کا سامنا ہے۔ سوئس انفو نے پیر کو یہ اطلاع دی۔ سوئس ملک پروڈیوسرز فیڈریشن کی ترجمان کرسٹا بروگر نے مبینہ طور پر خبر رساں ایجنسی کی اسٹون-اے ٹی ایس کو بتایا کہ ڈیری فارمرزکیلئے صورتحال ’’انتہائی کشیدہ‘‘ ہے۔ شدید گرمی کے باعث گائیں کم خوراک کھاتی ہیں اور کم دودھ دیتی ہیں، جبکہ گھاس کی کم پیداوار بھی چارے کی قلت میں اضافہ کر رہی ہے۔ گریویئر بین الاقوامی تنظیم کے ڈائریکٹر اولیویئر اِسلر نے کہا کہ خشک سالی اور شدید گرمی نے جانوروں کی صحت اور چارے کی دستیابی پر ’’بہت نمایاں اثر‘‘ ڈالا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کولمبیا کےعوام اسرائیل کی گولان پہاڑیوں پرخودمختاری تسلیم نہیں کرتے: سابق صدر

ان حالات کے باعث کسانوں کو اضافی چارہ خریدنا پڑ رہا ہے جس سے پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے، جبکہ دودھ کی پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔ بعض کسانوں کو تازہ گھاس کی قلت پوری کرنے کیلئے مبینہ طور پر موسمِ سرما کیلئے ذخیرہ کئے گئے چارے سے کام لینا پڑ رہا ہے۔ ٹیٹے دے موآن بین الاقوامی تنظیم کے منیجر مارٹن زیگنتھالر نے کہا، ’’یہ صورتحال اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ موسم کے بڑھتے ہوئے غیر متوقع حالات پہاڑی علاقوں میں پنیر سازی کے شعبے کیلئے ایک چیلنج بن رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’صرف بارش اور معمول کے درجۂ حرارت کی جلد واپسی ہی اس صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز کے بحری راستے پر اتفاق

اِسلر نے کہا کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں حالیہ مہینوں کے دوران گریویئر پنیر کی پیداوار میں کمی آئی ہے اور توقع ہے کہ پیداوار میں تقریباً۱۰؍ فیصد کمی واقع ہوگی۔ زیگنتھالر نے کہا، ’’اس مرحلے پر ہم دودھ کی پیداوار پر دباؤ دیکھ رہے ہیں، لیکن ابھی ہمارے پاس ٹیٹے دے موآن اے او پی کی آنے والے مہینوں میں ممکنہ پیداوار میں کمی کی مقدار طے کرنے کیلئے کوئی حتمی مجموعی تخمینہ موجود نہیں ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK