Inquilab Logo

مدرسہ تنظیموں اور یوپی حکومت کے درمیان خلیج میں اضافہ

Updated: July 10, 2024, 12:39 PM IST | Hameedullah Siddiqui | Lucknow

مدارس سے متعلق چیف سیکریٹری کے نئے حکم نامہ پر ٹیچرس اسوسی ایشن برہم،توہین عدالت کا مقدمہ کرنے کا انتباہ۔

There is anxiety in madrasas with the new decree. Photo: INN
نئے حکم نامے سے مدارس میں بے چینی ہے۔ تصویر : آئی این این

جہاں ایک طرف اترپردیش کے امدادیافتہ اور منظورشدہ مدارس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے، وہیں دوسری طرف یوپی حکومت کے چیف سیکریٹری کےنئےحکم نامہ نے مدارس سے وابستہ افراد کی تشویش اوربے چینی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ٹیچرس اسوسی ایشن مدارس عربیہ نے چیف سیکریٹری کے تازہ حکم نامہ پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئےانتباہ دیاہے کہ مذکورہ حکم نامہ واپس نہیں لئے جانے کی صورت میں توہین عدالت کا مقدمہ دائرکیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ۲۶؍جون ۲۰۲۴ء کو ریاست کے چیف سیکریٹری کی جانب سے سبھی ضلع مجسٹریٹ کو حکم نامہ جاری کرکے کہا گیا ہے کہ یوپی کے غیرمنظورشدہ مدرسوں کے طلبہ کورسمی تعلیم کیلئےدیگرسرکاری اسکولوں میں داخل کرانےکے عمل کی ماہانہ رپورٹ پیش کی جائے۔ ساتھ ہی امداد یافتہ، منظور شدہ اورغیر منظورشدہ مدرسوں میں زیرتعلیم سبھی غیرمسلم طلبہ کوبھی دیگر سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے کی پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔ چیف سیکریٹری کے اس حکم نامہ کے بارے میں یوپی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ الگ ہے جسے سپریم کورٹ میں زیرسماعت معاملہ کے ساتھ جوڑکر دیکھناغلط فہمی ہوگی۔ 
یوپی کے چیف سیکریٹری کی جانب سے ۲۶؍جون ۲۰۲۴ء کوجاری حکم نامہ سے مدارس سے وابستہ تنظیموں میں غم و غصہ اور بے چینی ہے۔ چیف سیکریٹری کے حکم نامہ میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (این سی پی سی آر)کے ۷؍ جون ۲۰۲۴ء کے مکتوب کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یوپی کے سبھی امدادیافتہ اور منظورشدہ مدرسوں میں زیرتعلیم غیرمسلم بچوں کی نشاندہی کرکے انہیں دیگر سرکاری اسکولوں میں داخل کرایا جائے اورریاست کےسبھی بغیر میپنگ والے مدرسوں کی میپنگ کراکران میں زیر تعلیم طلبہ کو روایتی طرزتعلیم کے سرکاری اسکولوں میں داخل کرایا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے:صدر پوتن: روسی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہندوستانیوں کی رہائی کیلئے رضامند

این سی پی سی آر کی مذکورہ ہدایت کی روشنی میں یوپی کے چیف سیکریٹری نے اترپردیش کے ۴۲۰۴؍غیرمنظورشدہ مدرسوں کی فہرست منسلک کرتےہوئے اپنے حکم نامہ میں کہا کہ ان غیرمنظور شدہ مدرسوں میں زیرتعلیم تمام طلبہ کو رسمی تعلیم فراہم کرنے کیلئے محکمہ ’بیسک شکشا پریشد‘ کے زیر انتظام اسکولوں میں داخلہ دیا جائے۔ اس کے لئےضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ ضلع سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ڈسٹرکٹ بیسک ایجوکیشن افسر اور ضلع اقلیتی بہبود افسرشامل ہوں گے اورمقامی پولیس افسر(سی او) اس کمیٹی کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اگرکسی ضلع میں منسلک فہرست میں مذکور مدرسوں کے علاوہ بھی کوئی غیرمنظورشدہ مدرسہ پایا جاتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ 
 چیف سیکریٹری نےسبھی ضلع مجسٹریٹ کی جانب سےمذکورہ دونوں نکات پر ماہانہ پیش رفت کی تفصیلات یوپی کےمحکمہ اقلیتی بہبود کی ڈائریکٹر کو فراہم کرانے کی ہدایت دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے سبھی اضلاع سے موصول ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ مرتب کرکے چیف سیکریٹری کے دفترکو مہیا کرائی جائے۔ ٹیچرس اسوسی ایشن مدراس عربیہ یوپی نے امدادیافتہ اور منظور شدہ مدرسوں سے غیر مسلم بچوں اورغیر منظور شدہ مدرسوں سے سبھی بچوں کو دیگر اسکولوں میں ٹرانسفر کرنے کے حکم کو سپریم کورٹ آف انڈیا کے ۵ا؍پریل ۲۰۲۴ ءکے ’اسٹے‘ کی روشنی میں توہین عدالت سے تعبیرکرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ این سی پی آر کے چیئرمین، یوپی کےچیف سیکریٹری اورمحکمۂ اقلیتی بہبود کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری او ر ڈائریکٹر کوبھیجے گئے میمورنڈم میں اسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری دیوان صاحب زماں خاں نے کہا کہ الٰہ آبادہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے۲۲ ؍ مارچ ۲۰۲۴ ء کے اپنے فیصلے میں امداد یافتہ اورمنظور شدہ مدرسوں سے بچوں کو اسکولوں میں شفٹ کرنے کا آرڈر دیا تھا جس کی تعمیل میں چیف سیکریٹر ی یوپی نے ۴ ؍ اپریل ۲۰۲۴ ء کے اپنے حکم نامہ میں طلبہ کی شفٹنگ کیلئے ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں کمیٹی بنائی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ٹیچرس اسوسی ایشن مدارس عربیہ یوپی اوردیگر تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑکی سہ رکنی بنچ نے ۵؍اپریل ۲۰۲۴ءکو ہائی کورٹ کے فیصلے کو ’اسٹے‘ کر دیا تھا جس کے بعد چیف سیکریٹری نے اپنا ۴؍اپریل کا حکم نامہ، سپریم کورٹ کےحتمی فیصلے تک منسوخ کر دیا تھا۔ دیوان زماں خاں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ سپریم کورٹ میں عنقریب ہی حتمی سماعت ہونے والی ہے، طلبہ کی شفٹنگ کا دوبارہ آرڈر جاری کرنا سپریم کورٹ کے’اسٹے آرڈر‘ کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر نیا حکم نامہ واپس نہیں لیا جاتا ہے تو ’توہین عدالت‘ کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دی جائے گی۔ 
  مذکورہ تما م پہلوؤں پر محکمہ اقلیتی بہبود کی ڈائریکٹر جے ریبھا نے روزنامہ ’انقلاب ‘ سے بات چیت کرتے ہوئےیہ واضح کیا کہ ’نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس‘ کی ہدایت کی تعمیل میں ۲۶؍جون ۲۰۲۴ء کو چیف سیکریٹری کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے اور یہ کارروائی غیر منظور شدہ مدارس کے بچوں کو اورغیر مسلم بچوں کومحکمہ بنیادی تعلیم کے اسکولوں میں داخل کرانےسے متعلق ہےجس کا تعلق سپریم کورٹ میں زیرسماعت معاملہ سے نہیں ہے۔ 
محکمہ اقلیتی بہبودسے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف سیکریٹری کا نیا حکم نامہ، منظورشدہ یا امداد یافتہ مدارس کو بند کرنے یا مدرسہ ایکٹ ۲۰۰۴ء کو منسوخ کرنے یا اسے غیر قانونی قرار دینے سے متعلق بالکل نہیں ہےبلکہ غیرمنظورشدہ مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں اور غیر مسلم بچوں سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ حکومت کے کسی بھی پروگرام؍اسکیم کے مناسب آپریشن کیلئے وقتاً فوقتاً احکامات جاری کئے جاتے ہیں جو حکومتی کارروائی کا ایک حصہ ہوتاہے اور چیف سیکریٹری کا نیا حکم نامہ بھی اسی کاایک حصہ ہے، جس کا براہ راست سپریم کورٹ میں زیرسماعت معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اورحکومت نے خود بھی اپنے جوابی حلف نامے میں واضح کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ پرپابند عمل ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK