Updated: November 02, 2026, 9:59 PM IST
۱۵؍ جنوری ۲۰۰۱ء کو شروع ہونے والا وکی پیڈیا محض ایک آن لائن انسائیکلوپیڈیا نہیں بلکہ انسانی تعاون، رضاکارانہ محنت اور علم کو دولت یا اداروں کی ملکیت سے آزاد رکھنے کے خواب کی غیر معمولی مثال بن چکا ہے۔ ۲۵؍ برس میں ۳۰۰؍ سے زیادہ زبانوں میں کروڑوں مضامین اور اربوں الفاظ پر مشتمل اس ذخیرے نے دنیا بھر کے لوگوں کو مفت معلومات فراہم کیں، لیکن اب مصنوعی ذہانت اسی علم سے فائدہ اٹھا کر صارفین کو اصل ویب سائٹ تک پہنچنے سے روک رہی ہے۔
دنیا بھر میں علم تک مفت رسائی کے تصور کو عملی شکل دینے والے وکی پیڈیا نے اپنے قیام کے ۲۵؍ سال مکمل کرلیے ہیں۔ اس موقع پر برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ نے اپنے ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کے جائزے میں اس غیر معمولی منصوبے کی کامیابیوں، کمزوریوں اور مستقبل کو درپیش خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا انسانی تاریخ میں اب دوبارہ کبھی اس نوعیت کا کوئی اجتماعی منصوبہ وجود میں آسکے گا؟ جریدے کے مضمون کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جس پلیٹ فارم نے مصنوعی ذہانت کے لیے علم کا ایک عظیم ذخیرہ فراہم کیا، اب وہی ٹیکنالوجی اس کے قارئین، رضاکاروں اور مالی وسائل کی بنیاد کو کمزور کررہی ہے۔ وکی پیڈیا کا آغاز ۱۵؍ جنوری ۲۰۰۱ء کو ہوا تھا۔ اس کے بانی جمی ویلز اور لیری سینگر نے ابتدا میں ’نیوپیڈیا‘ کے نام سے ایک آن لائن انسائیکلوپیڈیا بنانے کی کوشش کی تھی، جس میں ماہرین کی نگرانی اور منظوری کے بعد مضامین شائع کیے جاتے تھے۔ تاہم یہ عمل اس قدر سست تھا کہ پانچ ماہ میں صرف ایک مضمون منظور ہوسکا۔ اس کے بعد وکی پیڈیا کا تجربہ شروع کیا گیا، جہاں دنیا بھر کے عام صارفین کو مضامین لکھنے، ان میں ترمیم کرنے اور معلومات کی اصلاح کا موقع دیا گیا۔ یہی کھلا اور اشتراکی طریقہ اس منصوبے کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔
اس تجربے نے وقت کے ساتھ ایک ایسی عالمی علمی برادری کو جنم دیا جس میں کسی ایک ملک، ادارے یا زبان کی اجارہ داری نہیں تھی۔ رضاکاروں نے تاریخ، سائنس، طب، ادب، جغرافیہ، سیاست، ثقافت اور روزمرہ زندگی کے موضوعات پر معلومات جمع کیں، حوالوں کی جانچ کی اور غلطیوں کی اصلاح کی۔ وکی پیڈیا اب ۳۰۰؍ سے زیادہ زبانوں میں دستیاب ہے اور اس کے تمام زبانوں کے ایڈیشنز میں ۶؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ سے زیادہ مضامین موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند
جریدے کے جائزے میں اس کے ذخیرے کو تقریباً ۳۰؍ ارب الفاظ پر مشتمل انسانی تحریروں کا عظیم مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق دسمبر ۲۰۲۵ء تک وکی پیڈیا پر ۶۶؍ ملین سے زیادہ مضامین موجود تھے، جب کہ اس کے ۳۴۲؍ زبانوں کے ایڈیشنز تھے۔ صرف انگریزی وکی پیڈیا میں تقریباً ۷۰؍ لاکھ مضامین شامل تھے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس کے صفحات کو مجموعی طور پر تقریباً ۹ء۱؍ کھرب مرتبہ دیکھا گیا، یعنی روزانہ اوسطاً ۵۰؍ کروڑ سے زیادہ انسانی وزٹس۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وکی پیڈیا محض ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ عالمی انٹرنیٹ کے علمی ڈھانچے کا بنیادی حصہ بن چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے علم کو خریدنے کی صلاحیت سے آزاد رکھنے کی کوشش کی۔ عام طور پر بڑے ڈجیٹل پلیٹ فارم اشتہارات، صارفین کے ڈیٹا یا سبسکرپشن کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں، لیکن وکی پیڈیا اشتہارات کے بغیر مفت دستیاب ہے۔ اس کا انتظام غیر منافع بخش وکیمیڈیا فاؤنڈیشن کرتی ہے، جب کہ مواد کی تیاری اور نگرانی میں دنیا بھر کے رضاکار حصہ لیتے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ڈھائی لاکھ رضاکار ایڈیٹر ہر ماہ اس کے مواد میں ترمیم، اضافہ یا اصلاح کرتے ہیں۔ ۲۰۲۵ء میں رضاکاروں نے مختلف زبانوں کے ایڈیشنز میں ۹؍ کروڑ ۴۱؍ لاکھ سے زیادہ تبدیلیاں کیں۔
تاہم اس عظیم منصوبے کی اپنی کمزوریاں بھی رہی ہیں۔ وکی پیڈیا پر مواد کی مقدار اور معیار ہر زبان میں یکساں نہیں۔ انگریزی ایڈیشن کے مقابلے میں کئی بڑی زبانوں میں مضامین کی تعداد بہت کم ہے۔ رضاکار ایڈیٹرز کی نمائندگی میں بھی عدم توازن رہا ہے؛ خواتین اور بعض خطوں کے لکھنے والوں کی شمولیت طویل عرصے تک محدود رہی۔ ’دی اکانومسٹ‘ کے جائزے میں اس کے مواد کی بعض غیر معمولی ترجیحات کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک وقت میں کارٹون کردار ’اسکریپی ڈو‘ پر مضمون پولینڈ کے مضمون سے بھی زیادہ طویل تھا۔ اس طرح کے واقعات وکی پیڈیا کے اس دعوے اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ واقعی تمام انسانی علم کا جامع ذخیرہ ہے۔ اس کے باوجود وکی پیڈیا کو سب سے بڑا خطرہ اب محض مواد کی کمی یا ادارتی اختلافات سے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے لاحق ہے۔ چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی چیٹ بوٹس، سرچ انجنوں کے خودکار جوابات اور دیگر ڈجیٹل معاونین معلومات فراہم کرنے کے لیے وکی پیڈیا سمیت انٹرنیٹ کے مختلف علمی ذرائع سے استفادہ کرتے ہیں۔ صارف کو کسی سوال کا جواب براہ راست اسکرین پر مل جاتا ہے، اس لیے وہ اکثر اصل مضمون یا ویب سائٹ کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ نتیجتاً وکی پیڈیا کا مواد پہلے سے زیادہ جگہوں پر استعمال ہورہا ہے، لیکن اس کے اپنے صفحات پر آنے والے قارئین کی تعداد کم ہورہی ہے۔
’دی اکانومسٹ‘ کے جائزے میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اگر سرچ انجن کسی صارف کو وکی پیڈیا کا مضمون تجویز کرے تو تقریباً ہر ۱۰؍ میں سے ایک صارف اس لنک کو کھولتا ہے، لیکن جب کسی زبان کے بڑے ماڈل کے جواب میں وکی پیڈیا کا حوالہ آتا ہے تو صرف ۳۳ء۰؍ فیصد صارفین اصل صفحے تک پہنچتے ہیں۔ اسی جائزے کے مطابق ۲۰۲۲ء کے بعد سے وکی پیڈیا کے قارئین کی تعداد میں تقریباً ایک چوتھائی کمی آئی ہے۔ یہ صورت حال اس کے لیے اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام اس کے مواد سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے نتیجے میں صارفین، عطیات یا نئے رضاکار بھی اس پلیٹ فارم تک پہنچیں۔ وکیمیڈیا فاؤنڈیشن کے اپنے اعداد و شمار بھی اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں۔ فاؤنڈیشن نے اکتوبر ۲۰۲۵ء میں بتایا تھا کہ انسانی قارئین کی جانب سے وکی پیڈیا کے صفحات دیکھنے کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۸؍ فیصد کم ہوئی۔ دوسری طرف خودکار پروگراموں اور مشینوں کی سرگرمی میں اضافہ ہوا۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں وکیمیڈیا سوئزرلینڈ نے فاؤنڈیشن کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ۲۰۲۵ء میں انسانی وزٹس ۸؍ فیصد گھٹے، جب کہ مشینوں اور خودکار اپلی کیشنز کے ذریعے صفحات دیکھنے کی تعداد میں ۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ وکی پیڈیا کا مواد ڈجیٹل دنیا میں پہلے سے زیادہ استعمال ہورہا ہے، مگر اسے تیار کرنے والے انسانوں اور اسے براہ راست پڑھنے والوں کے درمیان رابطہ کمزور پڑرہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ٹرمپ کا ہتک عزت کا مقدمہ مستقل طور پر خارج
یہ بحران صرف قارئین کی تعداد تک محدود نہیں۔ وکی پیڈیا کا پورا نظام رضاکارانہ محنت اور عوامی عطیات پر قائم ہے۔ اگر لوگ معلومات اے آئی سے حاصل کرنے لگیں اور اصل ویب سائٹ پر آنا چھوڑ دیں تو عطیات دینے، مضامین میں ترمیم کرنے اور نئے موضوعات پر کام کرنے والوں کی تعداد بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس طرح ایک ایسا خطرناک چکر پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس میں مصنوعی ذہانت وکی پیڈیا سے معلومات حاصل کرتی رہے، لیکن وکی پیڈیا کے لیے نئی معلومات تیار کرنے والے انسانوں کی حوصلہ افزائی اور وسائل کم ہوتے جائیں۔ اس کے ساتھ اے آئی کے لیے تربیتی مواد کے طور پر وکی پیڈیا کے استعمال کا ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ جب ماڈل کسی مضمون سے معلومات حاصل کرکے جواب تیار کرتا ہے تو اس کے لیے اصل مضمون کی باریکیوں، حوالوں اور ممکنہ غلطیوں کو برقرار رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ ’دی اکانومسٹ‘ کے جائزے میں وکی پیڈیا پر ایک معروف غلط مذاق کی مثال بھی دی گئی ہے، جس میں الیکٹرک ٹوسٹر کی ایجاد کا سہرا فرضی شخصیت ایلن میک ماسٹرز کو دیا گیا تھا۔ یہ غلط دعویٰ بعض اے آئی نظاموں کے جوابات میں بھی سامنے آتا رہا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر دستیاب معلومات کو نقل کرنا اور ان کی صحت کی ضمانت دینا دو الگ باتیں ہیں۔
وکی پیڈیا نے اس نئے دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے مکمل تصادم کے بجائے اسے اپنے رضاکاروں کی مدد کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی بھی اختیار کی ہے۔ وکیمیڈیا فاؤنڈیشن کے مطابق اے آئی کو ایسے کاموں میں مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جن میں مواد کی نگرانی، غلطیوں کی نشاندہی، ترجمہ اور نئے رضاکاروں کی رہنمائی شامل ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ انسانی ایڈیٹرز کی تحقیق، فیصلہ سازی اور اجتماعی اتفاق رائے کو مشینوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں وکی پیڈیا کی ۲۵؍ ویں سالگرہ کے موقع پر فاؤنڈیشن نے مائیکروسافٹ، میٹا، پرپلیکسیٹی، ایمیزون اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مواد تک رسائی کے معاہدوں کا بھی اعلان کیا، تاکہ اے آئی کمپنیوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر ڈیٹا استعمال کیے جانے کے عوض وکی پیڈیا کو مالی وسائل حاصل ہوسکیں۔ وکی پیڈیا کے ۲۵؍ سالہ سفر کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ علم کا ایک عظیم ذخیرہ صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بنتا؛ اس کے پیچھے انسانوں کی محنت، وقت، تحقیق اور اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اس ذخیرے سے جواب تو تیار کرسکتی ہے، لیکن اگر اس کی بنیاد رکھنے والے رضاکار ہی کمزور پڑگئے تو مستقبل کے لیے قابلِ اعتماد معلومات کہاں سے آئیں گی؟ دنیا کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی وکی پیڈیا سے کتنا علم حاصل کرسکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس علم کو پیدا کرنے والے نظام کو زندہ رکھنے میں کیا کردار ادا کرے گی۔