نجی ٹینکروں کو ’ٹینکر مافیا‘ کہنے والی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں آج اس تعلق سے تجویز پیش کی جائےگی۔ گرمی میں درختوں کو پانی کی ضرورت لیکن پینے کا پانی استعمال نہ کریں: بی ایم سی۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 11:03 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
نجی ٹینکروں کو ’ٹینکر مافیا‘ کہنے والی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں آج اس تعلق سے تجویز پیش کی جائےگی۔ گرمی میں درختوں کو پانی کی ضرورت لیکن پینے کا پانی استعمال نہ کریں: بی ایم سی۔
کم بارش اور جھیلوں میں پانی کی کم سطح کے پیش نظر بی ایم سی عوام تک پینے کا پانی پہنچانے کیلئے نجی ٹینکروں کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہے اور یہ تجویز آج یعنی بدھ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی جائے گی۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ممبئی میں پانی چوری کی جو بات کہی جاتی ہے اس میں نجی ٹینکر خدمات مہیا کرنے والوں کے تعلق سے بھی کہا جاتا ہے کہ ایک حد تک مبینہ طور پر یہ بھی چوری کا پانی فراہم کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں جب کبھی ان کا ذکر ہوتا ہے تو متعدد کارپوریٹر اسے ’ٹینکر مافیا‘ کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ شہر و مضافات میں بی ایم سی کے ۲۶؍ وارڈ ہیں اور ہر وارڈ میں پانی کا ایک ٹینکر ہوتا ہے جو ضرورت کے حساب سے مختلف مقامات پر پانی پہنچاتا ہے۔ تاہم گرمی کی شدت بڑھنے اور پانی کٹوتی کے پیش نظر مختلف علاقوں میں پانی کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے جسے دیکھتے ہوئے بی ایم سی ٹینکروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ تاہم اس اضافہ کیلئے ٹینکر خریدنے کے بجائے نجی ٹینکروں کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کو ’’ڈی نوٹیفائی‘‘ کرنے کیخلاف عرضیوں پرکل سپریم کورٹ میں سماعت
یاد رہے کہ ممبئی کو یومیہ کم از کم ۴؍ ہزار ۶۶۴؍ ملین لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور جھیلوں سے اتنا ہی پانی حاصل کیا جاتا ہے لیکن راستے میں تقریباً ۴۰۰؍ ملین لیٹر پانی پھٹی ہوئی پائپ لائنوں کے رسنے اور پانی چوری کی نذر ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ممبئی واسیوں کو بی ایم سی ۴؍ ہزار ۱۰۰؍ ملین لیٹر پانی ہی سپلائی کرپاتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پانی رسنے اور چوری ہونے کی وجہ سے یومیہ ۳۴؍ فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے اور شہری انتظامیہ اگر ان دونوں مسئلوں کو حل کرلیتا ہے تو کسی بندھ کی مقدار سے زیادہ پانی یوں ہی حاصل ہوجائے گا۔ ٹینکر چلانے والوں پر پانی چوری کا الزام اس بنیاد پر بھی عائد کیا جاتا ہے کہ جو ڈیڑھ ملی میٹر کی پائپ لائن انہیں مہیا کی جاتی ہے اس کی مدد سے کم وقت میں بہت تیزی سے پانی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اس کے باوجود ان کے پاس کئی ٹینکر پانی دستیاب ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فیصلہ موخر کردیا گیا، دیوالی تک یو پی آئی ٹرانزیکشن پر’ایم ڈی آر‘ چارج نہیں لگے گا
درختوں سے متعلق شہریوں سے اپیل
بی ایم سی نے منگل کو شہریوں اور ہائوسنگ سوسائٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ درختوں کو پانی دینے کیلئے پینے کا پانی استعمال نہ کریں بلکہ اس کام کیلئے دیگر ذرائع سے حاصل شدہ پانی استعمال کریں۔ بی ایم سی کے ذریعہ جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شہر و مضافات میں شدید گرمی کی وجہ سے درختوں پر دبائو بڑھ گیا ہے اور ان کی خصوصی دیکھ ریکھ کی ضرورت ہے تاکہ درخت اور شاخیں گرنے کے واقعات رونما نہ ہوں۔ اس گرمی میں انہیں مناسب مقدار میں وقت پر پانی ملنا ضروری ہے لیکن اس کے لئے ایسا پانی استعمال نہ کیا جائے جس سے کھانا پکایا جاسکتا ہو اور اسے پیا جاسکتا ہو۔ شہری انتظامیہ کے مطابق درختوں میں پانی دینے کیلئے ایسا ’ری سائیکل‘ شدہ پانی استعمال کیا جائے جو پیڑوں کیلئے محفوظ ہوتا ہے۔
شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ اگر انہیں درختوں میں خطرے کی کوئی علامت نظر آتی ہے مثلاً جھاڑ کے تنے میں دراڑیں، درخت کا ایک طرف جھکنا، بڑی شاخوں کا سوکھنا یا ٹوٹ جانا اور درخت کی جڑوں کا کھوکھلا ہوجانا تو ان کو نظر انداز نہ کریں بلکہ اس کے تعلق سے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کو فوری طور پر مطلع کریں۔