Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا چند دنوں میں مزید سیاسی زلزلے آئیں گے؟

Updated: June 22, 2026, 9:06 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

’آپ‘، ٹی ایم سی اور شیوسینا کے بعد بھی اراکین پارلیمان کی ٹوٹ پھوٹ جاری رہ سکتی ہے۔

It Is Being Claimed That Modi Wants To Strengthen The Foundations For His Successor.Photo:INN
دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مودی اپنے جانشین کیلئے بنیادیں مضبوط کرکے جانا چاہتے ہیں-تصویر:آئی این این
 پہلے عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا کے ۷؍ اراکین، پھر ٹی ایم سی کے لوک سبھا کے  ۲۰؍ یا ۲۲؍ اراکین اور راجیہ سبھا کے کئی اراکین کے استعفیٰ کے بعد شیوسینا کے لوک سبھا کے کم از کم ۶؍ اراکین کی بغاوت    کے واقعات جس تیزی سے ہوئے ہیں،انہوں  نےاپوزیشن   میں ہی سنسنی نہیں پھیلا دی ہے بلکہ  حکمراں محاذ کے لیڈر بھی حیران ہیں۔ آئندہ چند دنوں  میں  ایسے  اور بھی کئی سیاسی زلزلے آسکتے ہیں کیوں کہ بی جےپی کے اندرونی ذرائع کے مطابق حکمراں محاذ مانسون اجلاس سے قبل پارلیمنٹ  میں دوتہائی اکثریت کے جادوئی ہندسہ کو پالینا چاہتا ہے۔ 
حکمراں محاذ کو ’’ہدف ‘‘ حاصل کرلینے کا یقین
اپوزیشن پارٹی کے اراکین کی بغاوت اور دَل بدلی کے نتیجہ  میں لوک سبھا  اور راجیہ سبھا کی مساوات جس تیزی سے تبدیل ہورہی ہے،اس نے  پورے ملک میں ہلچل مچارکھی اور اس کا سہرا براہ راست وزیر داخلہ امیت شاہ کےسر پر باندھا جا رہاہے۔ حکمراں اتحاد ’این ڈی اے‘ کے قائدین کو یقین ہے کہ آئندہ ماہ شروع ہونے والے مانسون اجلاس تک انہیں پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔کولکاتا سے شائع ہونےوالے  اخبار ’’ ٹیلی گراف  ‘‘کے نمائندہ  جے پی یادو سے گفتگو میں ایک مرکزی وزیر نے کہا ہے کہ حکومت آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کیلئےمطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے بارے میں پُراعتماد ہے، جس کے  لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد بڑھا کر ۸۵۰؍ تک کی جاسکتی ہےا ور خواتین  ریزرویشن کا نافذ کیا جاسکتاہے۔ 
آئین میں کئی ترامیم کی تیاری
حالانکہ اپوزیشن پارٹیوں میں یکے بعددیگرے ہونے والی بغاوتوں کو  ایک بڑا طبقہ پارلیمانی حد بندی بل کی ناکامی  کے انتقام  کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ سمجھا جارہاہےکہ اس طرح اپوزیشن کے اراکین کو مبینہ طورپر چھین کر   حکمراں  محاذ مانسون اجلاس میں اُسی بل کو  پاس کروا کر حزب اختلاف کو منہ توڑ جواب دینا چاہتا ہے جسے اس نے مغربی بنگال اسمبلی الیکشن سے قبل پاس نہیں ہونے دیا تھا۔ تاہم آئین میں ترمیم کا یہ  واحدبل نہیں  ہے جس کو پاس کرانے کیلئے حکمراں محاذ کو دوتہائی اکثریت درکار ہے۔حکومت ’’ایک ملک، ایک الیکشن‘‘ منصوبہ کو بھی ۲۰۲۹ء کے الیکشن سے پہلے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس   کیلئے بھی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔
کئی اور سیاسی زلزلے آسکتے ہیں
۵۴۰؍ رکنی لوک سبھا میں دوتہائی اکثریت کیلئے ۳۶۰؍   اراکین کی حمایت درکار ہے جبکہ این ڈی اے کے پاس اس وقت۲۹۳؍اراکین ہیں۔ ترنمول کانگریس کے۲۰؍اور شیوسینا (اُدھو) کے۶؍ اراکین کے ساتھ   یہ تعداد۳۱۹؍ تک پہنچ جائے گی۔بی جے پی ذرائع کا کہنا  ہے کہ سماجوادی پارٹی سمیت کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں میں بھی بغاوتیں ہو سکتی ہیں۔ بی جے پی کے ایک  لیڈر نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں کئی اپوزیشن جماعتوں میں ’’سیاسی زلزلے‘‘ دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔راجیہ سبھا میں این ڈی اے  دوتہائی اکثریت  کے بہت قریب پہنچ چکاہے۔  اس کے اراکین کی تعداد  اس وقت  ۱۵۲؍ ہے جبکہ دو تہائی اکثریت کیلئے ۱۶۴؍ اراکین درکاری ہیں۔ یہ  ہدف زیادہ دور نہیں۔  اپریل میں عام آدمی پارٹی کے ۷؍ اراکین کی بغاوت اور رواں مہینے راجیہ سبھا کیلئے الیکشن   میں  ملنےوالی کامیابیوں نے اس تعداد کو بڑھانے میں مدد دی ہے۔
 
 
مودی اپنے جانشین کیلئے مضبوط بنیاد چھوڑنا چاہتے ہیں
سیاسی مساوات میں تبدیلی کی رفتار میں اس  غیر متوقع تیزی کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جارہی ہے کہ وزیراعظم مودی اپنے بعد مرکز میں بی جےپی حکومت کی کمان سنبھالنےوالوں  کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرکے جانا چاہتے ہیں۔  خود بی جےپی  کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ حلقہ بندی اور ایک ملک، ایک الیکشن کا منصوبہ دراصل نریندر مودی کے بعد کے دور میں بی جے پی کیلئےسیاسی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔  اگلے عام انتخابات کے وقت مودی کی عمر تقریباً۷۹؍ برس ہوگی اور ان کے جانشین کے پاس اُن جیسی عوامی مقبولیت نہیں ہوگی۔
 
 
نئی حلقہ بندی طویل مدتی فائدہ کا منصوبہ
اپوزیشن یہ خدشہ ظاہر کرچکا ہےکہ پارلیمانی سیٹوں کی  نئی حلقہ بندی جس سے مرکز میں حکومت سازی کیلئے  جنوبی ریاستوں پر انحصار نہ کے برابر رہ جائےگا،   بی جے پی کو طویل مدتی سیاسی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔پرینکا گاندھی  نے لوک سبھا میں بحث کے دوران کہاتھا کہ آسام میں۲۰۲۳ءکی حلقہ بندی سیاسی فائدہ کیلئے کی گئی تھی اور اسی طرز پر  پارلیمانی  حلقوں کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش ہورہی ہے۔    بی جے پی کا ماننا ہے کہ اسمبلی و پارلیمنٹ کا الیکشن  ایک ساتھ ہونے کی صورت میں قومی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار جیسے موضوعات پر مہم چلانا آسان ہوگا، جس سے پارٹی کو فائدہ پہنچے گا۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق اپوزیشن  میں ٹوٹ پھوٹ اور ملک کے سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے والی قانون سازی نریندر مودی کے سیاسی ورثے کا حصہ بن سکتی ہے کیونکہ وہ ایسے وزیر اعظم کے طور پر یاد رکھے جانا چاہتے ہیں جس نے آزادی کے بعد ناممکن سمجھی جانے والی تبدیلیاں کیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK