Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج سے اسمبلی کا مانسون اجلاس،اپوزیشن نےحکومت کی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا

Updated: June 22, 2026, 10:01 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

مہا وکاس اگھاڑی کے اراکین حکومت کو گھیرنے کیلئے تیار ، کہا: یہ مہایوتی کی حکومت نہیں ’۵۶؍فیصد کمیشن‘والی سرکار ہے، قرض معافی دھوکہ ہے۔

Meeting.Photo:INN
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
پیر (آج) سے ممبئی میں اسمبلی کا مانسون اجلاس شروع ہونے جارہا ہے جس کے ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن مہاوکاس اگھاڑی نے اتوار کو حکومت کی جانب سے اسمبلی اجلاس سے قبل   روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا اور یہ صاف اشارہ دے دیا ہے کہ وہ مانسون اجلاس میں عوامی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی پوری کوشش کر یں گے۔اس سلسلے میں مہاو کاس گھاڑی کے لیڈروں نےاتوار کی دوپہر  میٹنگ کی جس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں میڈیا کو چائے پارٹی کے بائیکاٹ کی وجوہات بتائیں۔
مہا وکاس اگھاڑی کے لیڈروں نے الزام لگایا کہ یہ مہایوتی کی حکومت نہیں ’۵۶؍فیصد کمیشن‘والی حکومت ہے، حکومت کی قرض معافی  اسکیم   دھوکہ ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے سات بارہ کو کورا کیا جائے (جو قرض ان پر درج ہے، اسے مکمل معاف کیاجائے)اور کم تعداد ہونے کے باوجود حکومت اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دے۔اس پریس کانفرنس میں شیوسینا(ادھو ٹھاکرے) کےگروپ لیڈر بھاسکر جادھو ، امباداس دانوے، سنیل پربھو، این سی پی کے سینئر لیڈر جینت پاٹل، ریاستی صدر ششی کانت شندے، قانون ساز کونسل میں کانگریس کے گروپ لیڈر ستیج پاٹل، رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ،بنٹی پاٹل اور پریس کانفرنس سے قبل میٹنگ میں رکن اسمبلی امین پٹیل بھی موجود تھے۔
’’ریاست میں لاء اینڈ آرڈرکی صورتحال تباہ کن‘‘
مہاوکاس اگھاڑی کے اہم لیڈروں نے الزام لگایا کہ حکومت ریاست کے سنگین مسائل کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ حکومت پر تنقید کی کہ اس کے پاس خشک سالی، کسانوں کے مسائل، خواتین پر بڑھتے  مظالم،   قانون نظم و نسق کی بگڑتی صورتحال اور ریاست میں منشیات کے بڑھتے  نیٹ ورک جیسے کئی مسائل کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔ان لیڈروں نے کہا کہ ریاست کو خشک سالی کا سامنا ہے۔ بوائی میں تاخیر ہوئی ہے، کسانوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ 
 
 
شیوسینا(ادھوٹھاکرے) کےگروپ لیڈر بھاسکر جادھو نے پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ حکومت خشک سالی کا اعلان کرے۔ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ قرض معافی دھوکہ ہے اور کسانوں کو شرائط و ضوابط میں پھنسایا گیا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی نے مطالبہ کیا کہ مہایوتی حکومت کسانوں کا سات بارہ کورا(مکمل صاف)کرے۔
قانون ساز کونسل میں کانگریس کے گروپ لیڈر ستیج پاٹل نے تنقید کرتے ہوئے حکومت کو۵۶؍ فیصد کمیشن والی سرکار قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں ٹھیکیداروں کو سیشن منعقد کرکے کام کے بل حاصل کرنے کیلئے کمیشن کی بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ ٹھیکیداروں کے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے بل زیر التوا ہیں۔ جل جیون مشن کے فنڈز میں کٹوتی ہوئی ہے اور کئی ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔ دوسری طرف مہاراشٹر کی مالی حالت تشویشناک ہو گئی ہے کیونکہ ریاست پر قرض کا بوجھ ساڑھے ۹؍لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔
 
 
این سی پی لیڈر جینت پاٹل نے کہا کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تباہ کن ہے۔ خواتین پر مظالم بڑھ گئے ہیں۔ ریاست میں منشیات کے معاملات  میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ایسے معاملات میںچھوٹے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے لیکن ماسٹر مائنڈ آزاد ہیں۔منشیات فروشوں اور پولیس کی ملی بھگت کے باعث اس کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔ جینت پاٹل نے کہا کہ مندر اراضی گھوٹالہ گزشتہ اجلاس میں اٹھایا گیا تھالیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حکومت اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے انہیں مذاق میں اڑا رہی ہے۔
جتیندر اوہاڑ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ گرامر پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپوزیشن کے ذریعہ دیئے گئے خط میں ہر مسئلہ کا جواب دے۔
چائے پارٹی کے بائیکاٹ کی وجوہات
مہاوکاس اگھاڑی نے روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ایسی حکومت کے ساتھ چائے  پارٹی میں شرکت کرنا مناسب نہیں تھا جو عوام کے مسائل پر بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاست کے ۱۳؍کروڑ لوگوں کے   مسائل کو حل کرنا حکومت کا فرض ہے اور مہاوکاس اگھاڑی ان تمام مسائل کو مانسون اجلاس میں جارحانہ انداز میں اٹھائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK