Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترقیاتی فنڈ کی کمی نے پارٹی بدلنے پر مجبور کیا: ناگیش پاٹل اشٹیکر

Updated: June 22, 2026, 10:11 AM IST | Z A Khan | Hingoli

کہا:’اُدھو ٹھاکرے سے کوئی ناراضگی نہیںہے اور میں نے اپنے نظریات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے، شیوسینا سے نکل کر شیوسینا ہی میں گیا ہوں۔

Nagesh Patil Ashtekar.Photo:INN
ناگیش پاٹل اشٹیکر۔ تصویر:آئی این این
شیوسینا (یوبی ٹی) کے باغی رکن پارلیمان  ناگیش پاٹل اشٹیکر ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے اتوار کو  اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پارلیمانی حلقے میں ترقیاتی کاموں کیلئے مناسب فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔
 
 
رکن پارلیمان ناگیش پاٹل اشٹیکر نے گزشتہ دو تین دنوں سے جاری سیاسی قیاس آرائیوں کے درمیان   سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی سربراہ اُدھو ٹھاکرے سے ہرگز ناراض نہیں ہیں بلکہ اپنے حلقۂ انتخاب کی ترقی اور فنڈ کی کمی کے باعث انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔اپنی بغاوت کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا کہ گزشتہ چند دنوں سے مختلف قسم کی بحثیں جاری ہیں  اس لئے وہ پہلی بار عوام کے سامنے اپنا موقف رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی ناراضگی کی وجہ سے پارٹی سے الگ نہیں ہوئے اور اُدھو ٹھاکرے نے ہمیشہ انہیں بے پناہ محبت اور اعتماد دیا ہے۔ ناگیش پاٹل کے مطابق  سنجے راؤت یا دیگر سینئر قائدین اگر ان پر تنقید کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے کیونکہ ان لوگوں نے بھی ہمیشہ ان پر شفقت کی ہے اور وہ انہیں اپنے بزرگوں کی طرح سمجھتے ہیںاس لئے وہ ان کی باتوں کا برا نہیں مانیں گے۔
ناگیش پاٹل اشٹیکر نے بغاوت کے وقت کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ۱۸؍ جون تک ان کے گروپ کا کوئی بھی رکن کہیں نہیں گیا تھا لیکن اس کے بعد پارٹی کی جانب سے جس انداز میں بیانات دیئے گئے اور زبان کا استعمال کیا گیا، اس کے باعث کئی ساتھیوں کو محسوس ہوا کہ اب وہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ اختلاف اور ناراضگی کا اظہار ضرور کیا جائے لیکن غیر آئینی یا غیر شائستہ زبان استعمال نہ کی جائے کیونکہ الفاظ دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ 
 
 
اقتدار میں شامل ہونے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ناگیش پاٹل  نے کہا کہ اقتدار کے بغیر کارکنوں اور عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے، یہ ایک حقیقت ہے۔ عوام نے انہیں بڑی امیدوں کے ساتھ منتخب کیا ہے اس لئے ان کی ضروریات پوری کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حلقۂ انتخاب کی ترقی کیلئے خاطر خواہ فنڈ دستیاب نہیں تھا اور ارکانِ پارلیمان کو ملنے والا پانچ کروڑ روپے کا فنڈ دیہات اور عوام کی توقعات پوری کرنے کیلئے ناکافی ثابت ہو رہا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ترقیاتی فنڈ ہی نہ ہو تو وہ عوام کے مسائل کیسے حل کریں۔اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ان کا فیصلہ بعض لوگوں کو پسند آیا ہو اور بعض کو نہیں لیکن آخرکار عوام ہی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہو0ں نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اگر انہیں خدمت کا موقع دیا گیا تو وہ پوری دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔
ناگیش پاٹل اشٹیکر نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے وہ پوری وفاداری کے ساتھ کام کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اپنے حلقۂ انتخاب کی ترقی اور فنڈ حاصل کرنے کیلئے اقتدار کا حصہ بننا وقت کی ضرورت بن گیا تھا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اپنے کام کے ذریعے ناراض کارکنوں کو مطمئن کریں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ انہوں نے اپنی نظریاتی وابستگی ترک نہیں کی بلکہ ’’شیو سینا سے نکل کر شیو سینا   ہی میں آئے ہیں‘‘ اور انہوں نے اپنی فکر اور نظریے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK