طلبہ کوغذائیت سے بھرپور اشیاءاور پینے کا صاف پانی مہیا کرانے کی ہدایت۔ کیمپس میں کھانے پینے کا کاروبار کرنے والوں کیلئے’ایف ایس ایس اے آئی‘ کا لائسنس لازمی۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 10:46 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
طلبہ کوغذائیت سے بھرپور اشیاءاور پینے کا صاف پانی مہیا کرانے کی ہدایت۔ کیمپس میں کھانے پینے کا کاروبار کرنے والوں کیلئے’ایف ایس ایس اے آئی‘ کا لائسنس لازمی۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے)کی جانب سے سبھی اسکولوں کے کیمپس میں جنک فوڈ، چاکلیٹ اور کولڈرنکس وغیرہ جیسی مضر صحت اشیاء کی فروخت پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اس ہدایت کے چند ہفتوں بعد ریاستی محکمہ تعلیم نے تعلیمی اداروں کیلئے گائیڈ لائن جاری کیاہے جس کے تحت غذائیت سے بھرپور اشیاء مثلاً پھل، سبزیاں اور اناج سے تیار کردہ پکوان سپلائی کرنے اور پینے کا صاف پانی مہیا کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ اسکولوں کے انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے احاطے میں تیار یا پیش کیا جانے والا کھانا صحت کیلئے محفوظ ہے۔ اسکول کیمپس کی کینٹین والے کے پاس فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھاریٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) کا لائسنس لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی تھانے بائی پاس پر گڑھوں کا راج، حادثات کا خطرہ، سڑک کی بدحالی پھر اجاگر
محکمہ تعلیم نے سبھی تعلیمی اداروں سے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز کے ضوابط ۲۰۲۰ءکو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایسے اسکول جہاں کھانا پکایا جاتا ہے، ان کیلئے ایف ایس ایس اے آئی کا لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کینٹین والوں کے پاس موجود لائسنس کی درستگی کی تصدیق کے ذمہ دار ہوں گے ۔ انتظامیہ اورا سکولوں کے سربراہ اس بات کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے کہ فوڈ آپریٹرز (کینٹین والے) کے پاس لائسنس موجود ہے، حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کیا جا رہا ہے اور خوراک کا ذخیرہ، درجہ حرارت پر قابو پانے، کیڑوں پر قابو پانے اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے انتظام کے اصولوں پر عمل کیا جارہا ہے۔
کیمپس میں یا اسکول کے داخلی راستوں کے ۵۰؍میٹر کے اندر زیادہ چکنائی، چینی اور نمک والے کھانوں کی فروخت، تقسیم اور تشہیر پر پابندی کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔ اسکولوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذکورہ کھانے کے اشتہارات ان کے کمپیوٹر یا دیگر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر دستیاب نہ ہوں۔اسکولوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مینو میں پھل، سبزیاں، اناج، دالیں، دودھ کی مصنوعات اور دیگر غذائیت سے بھرپور چیزیں شامل کریں ۔طلبہ کیلئے فراہم کردہ پینے کا پانی بھی محفوظ ہونا چاہئے اور مقررہ ضابطوں اور معیار کے مطابق اس کی جانچ ہونی چاہئے۔