Inquilab Logo Happiest Places to Work

جالنہ میں خواتین کا شراب کے خلاف مورچہ، غیر قانونی اڈے بند کروانے کا مطالبہ

Updated: July 14, 2026, 9:08 AM IST | Jalna

ہاتھ میں گھریلو اوزار لئے خواتین نے مارچ کیا، شراب کے سبب گھریلو مظالم میں اضافے اور نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہونے کی شکایت۔

Women marching in villages of Kihalwad
کیہال وڈگائوں میںخواتین مارچ کرتے ہوئے

ضلع جالنہ کے منٹھا تعلقہ کے کیہال وڈگاؤں میں غیر قانونی شراب فروشی کے خلاف خواتین نے منفرد انداز میں احتجاج کیا۔ انہوں نے گھریلو اوزار ہاتھوں میں لے کر مارچ نکالا۔ خواتین کا مطالبہ تھا کہ گاؤں میں فوری طور پر غیر قانونی شراب کی فروخت بند کی جائے۔ اس کی وجہ سے گائوں کے کئی گھر تباہ ہو رہے ہیں۔ نیز خواتین پر ظلم ہو رہا ہے۔ 
 احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ گاؤں میں غیر قانونی شراب کی آسان دستیابی کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان نشے کی لت میں مبتلا ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں گھریلو جھگڑوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ شراب کے نشے میں کئی مرد اپنی بیویوں پر تشدد بھی کرتے ہیں۔خواتین نے بتایا کہ نشے کی حالت میں شوہر جن گھریلو اوزاروں سے ان پر حملہ کرتے ہیں، احتجاج کے دوران وہی اوزار ہاتھوں میں اٹھا کر وہ سڑکوں پر نکلیں، تاکہ انتظامیہ کو اپنی تکلیف اور غصے کا احساس دلایا جا سکے۔
 واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مختلف دیہاتوںمیں خواتین نے غیر قانونی شراب فروشی کے خلاف اسی نوعیت کے احتجاجی مارچ نکالے تھے۔اب کیہال وڈگاؤں کی خواتین نے بھی شراب کی غیر قانونی فروخت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ خواتین کا الزام ہے کہ کیہال وڈگاؤں، تانڈہ، پھاٹا اور نائیگاؤں ٹول ناکہ سے جے پور روڈ تک کے علاقے میں کھلے عام غیر قانونی شراب فروخت کی جا رہی ہے، مگر متعلقہ حکام اس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔احتجاجی خواتین نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی شراب فروشی پر فوری پابندی عائد کی جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور گاؤں کے نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے بچانے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔یاد رہے کہ جالنہ کے مختلف گائوں کی طرح ودربھ کے چندر پور ضلع میں بھی شراب کے خلاف خواتین نے کئی بار آواز اٹھائی ہےلیکن اب تک خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK