بی جے پی لیڈر نے کہا کہ بی ایل اوزمساجد میں جاکر بنگلہ دیشی مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ میں درج کر رہے ہیں۔
بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مہم کے دوران ووٹر فہرستوں کی شفافیت پر سیاسی گرما گرمی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک جانب حکمراں اتحاد کے رہنما ووٹر لسٹوں میں مبینہ فرضی اندراجات کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن اس پوری مہم پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں بی جے پی رہنما کرٹ سومیا نے کلیان مشرق میں بی جے پی رکن اسمبلی سلبھا گائیکواڑ کے دفتر میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے ووٹر رجسٹریشن کے عمل پر سنگین الزامات عائد کئے۔
اتوار کو کریٹ سومیا نے کلیان (مشرق) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں دعویٰ کیا کہ بعض بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او)مساجد میں جاکر مبینہ طور پر بنگلہ دیشی مسلم شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں میں درج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ممبرا علاقے میں ۴۰؍ہزار سے زائد بنگلہ دیشی شہریوں کے نام بطور ووٹر شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنان کو ہدایت دی کہ ایسے ناموں کی نشاندہی کر کے انہیں ووٹر لسٹ سے حذف کرانے کے لئے قانونی طریقۂ کار اختیار کریں۔ تاہم انہوں نے اپنے ان دعوؤں کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں جیسے حساس معاملات پر بغیر مصدقہ شواہد کے اس نوعیت کے بیانات نہ صرف انتخابی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں بلکہ مخصوص طبقوں کے بارے میں شکوک و شبہات کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔ایسے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور الیکشن کمیشن کی وضاحت ہی حقیقت کو سامنے لا سکتی ہے۔
دوسری جانب شیو سینا (ادھو) کے رہنما سنجے راؤت کی جانب سے ۱۰۰؍ کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کے الزام پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سومیا نے کہا کہ سنجے راؤت کی پارٹی اپنی سیاسی اہمیت کھو چکی ہے۔ اس لئے وہ میڈیا میں برقرار رہنے اور اپنی پارٹی کو زندہ رکھنے کے لئے روزانہ نئے الزامات عائد کرتے ہیں۔