Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان:۳۲؍بی ایل اوز نے ۶؍ہزار فارم تقسیم کئے

Updated: July 13, 2026, 3:03 PM IST | Ejaz Abduilghani | Mumbai

نیشنل اردو ہائی اسکول میں ایس آئی آر فارم تقسیم کرنے اور بھرنے کیلئے اتوار کو منعقدہ کیمپ میںبڑی تعداد میں عوام کی شرکت۔

A Large Number Of People Had Arrived To Collect SIR Forms.Photo:INN
ایس آئی آر فارم لینے کےلئےبڑی تعداد میں لوگ پہنچے تھے-تصویر:آئی این این
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت پر مہاراشٹر سمیت ملک کی متعدد ریاستوں میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( ایس آئی آر) مہم جاری ہے جس کے تحت ووٹر لسٹوں کی از سرنو جانچ کا عمل تیزی سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں کلیان کے نیشنل اردو ہائی اسکول میں  بڑے پیمانے پر اتوار کو خصوصی ایس آئی آر کیمپ کا انعقاد کیا گیا جہاں رائے دہندگان کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔کیمپ میں بیک وقت ۳۲  بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) نے خدمات انجام دیں اور رائے دہندگان میں ۶؍ہزار ۳۰۰ ؍ اینیومریشن فارم تقسیم کئے۔ ان میں سے ۱۵۰۰؍ افراد نے موقع ہی پر اپنے فارم مکمل کرکے متعلقہ بی ایل اوز کے حوالے بھی کر دئیے۔ایک ہی مقام پر بڑی تعداد میں بی ایل اوز کی موجودگی سے شہریوں کو فارم حاصل کرنے، معلومات لینے اور انہیں جمع کرانے میں خاطر خواہ سہولت ملی۔ 
 
 
واضح رہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں چند  بی ایل او کے عدم تعاون کی وجہ سے ووٹروں کو اِینِومریشن فارم کے حصول میں کافی دشواری پیش آ رہی ہے جبکہ کچھ بی ایل او گھر پر آرہے ہیں اور نہ ہی فون ریسیو کر رہے ہیں۔لہٰذا چند سماجی خدمات گاروں نے اتوار کو نیشنل اردو ہائی اسکول میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ فارم تقسیم کرنے کیلئے ایک کیمپ کا انعقاد کیا جس میں ہزاروں رائے دہندگان نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور متعلقہ بی ایل اوز سے اپنا فارم حاصل کیا۔اس کیمپ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سماجی کارکن اشفاق فضل کریم نے بتایا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں متعین سبھی بی ایل اوز کو ایک چھت کے نیچے لانے کے لئے اس کیمپ کی درخواست کی گئی تھی جس کا مثبت اثر دیکھنے کو ملا۔ 
سماجی کارکن سعادت تانکی نے الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی ہدایت کے مطابق بی ایل اوز کو گھر گھر جانا چاہیے تھا لیکن ۱۲ ؍دن گزرنے کے بعد بھی مسلم علاقوں میں وہ ووٹروں تک نہیں پہنچے۔ اسی لئے نیشنل اردو ہائی اسکول میں یہ کیمپ رکھا گیا تاکہ بیک وقت سبھی لوگ اپنے مسائل حل کرا سکیں۔تکنیکی خرابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر فرقان مرمکر نے بتایا کہ جن ووٹروں کے پاس پرانے ووٹر آئی کارڈ ہیں انہیں شدید دقتیں پیش آ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی ایل او کو جو نئی فہرست فراہم کی گئی ہے وہ نئے ایپیک نمبروں کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہیں جس سے نام ملانے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ووٹروں کی رہنمائی کرتے ہوئے عابد تانکی نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو فارم بھرنے میں پریشانی آ رہی ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ایس آئی آر کا فارم نہایت ہی باریکی اور محتاط انداز سے بھریں اور اگر کوئی دشواری ہو تو کسی بی ایل او کی موجودگی میں ہی اسے مکمل کریں۔
 
 
کیمپ میں آئی فرحانہ اعجاز نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کا نام فہرست میں نہیں مل رہا ہے اور ووٹر آئی کارڈ پر نام مختلف ظاہر ہو رہا ہے۔ جب انہوں نے اس سلسلے میں متعلقہ بی ایل او سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے تسلی بخش جواب دینے کے بجائے صرف نام درست کرانے کا مشورہ دے کر پلہ جھاڑ لیا۔مقامی ذمہ داران نے الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جو بی ایل او تعاون نہیں کررہے ہیں انہیں فرض شناسی کی ہدایت دیں اور مہم کی مدت میں اضافہ کرے تاکہ کوئی بھی شہری اپنے دستوری حق سے محروم نہ رہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK