کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے موجودہ مرکزی وزیر کرن رجیجوکے اس بیان کا جواب دیا کہ خواتین ریزرویشن کا نفاذ ۲۰۳۴ء سے قبل ممکن نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 10:27 AM IST | New Delhi
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے موجودہ مرکزی وزیر کرن رجیجوکے اس بیان کا جواب دیا کہ خواتین ریزرویشن کا نفاذ ۲۰۳۴ء سے قبل ممکن نہیں ہے۔
خواتین ریزرویشن کے معاملے پر سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو کے بیان کا جواب دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ رجیجو غلط ہیں اور لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کا التزام قانون میں پہلے سے موجود ہے ۔ چدمبرم نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کو مردم شماری اور حد بندی سے جوڑنا غیر ضروری ہے اور حکومت کی جانب سے ایسی باتیں دانستہ کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس تعلق کو ختم کر دیا جائے تو خواتین کا ریزرویشن فوری طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے اور۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے خواتین کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔چدمبرم نے کہا کہ لوک سبھا میں خواتین کا ریزرویشن آئین (۱۰۶؍ ویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۲۳ء کے تحت پہلے سے قانون میں دیا گیا ہے جیسا کہ راہل گاندھی نے بھی کہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے اسے مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے جوڑ دیا۔ چدمبرم نے کہا کہ کانگریس نے ۲۰۲۳ء میں ہی اس تعلق پر سوال اٹھایا تھا لیکن حکومت اپنے فیصلے پربضد رہی کیونکہ اس کے پیچھے ایک ’پوشیدہ ایجنڈا‘ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: لاء یونیورسٹی میں چیف جسٹس کو مدعو کرنے کی طلبہ نے مخالفت کی
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر مردم شماری اور حلقہ بندی سے اس تعلق کو ختم کر دیا جائے تو خواتین ریزرویشن کو ۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات سے کافی پہلے نافذ کیا جا سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے حوالے سے یہ تازہ سیاسی بحث سنیچر کو کرن رجیجو اور راہل گاندھی کے درمیان ’ایکس‘ پر ہونے والی بیان بازی کے بعد شروع ہوئی۔ رجیجو نے خواتین کے لیے اظہار رائے کی آزادی کے راہل گاندھی کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کانگریس کے موقف میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس اب خواتین ریزرویشن بل کی بلا کسی شرط حمایت کرے گی۔ راہل گاندھی نے اس کے جواب میں سوال اٹھایا تھا کہ جب خواتین کا ریزرویشن قانون۳؍ سال قبل اتفاق رائے سے پاس ہو چکا ہے تو اس کے نفاذ کے لیے نئی شرطیں کیوں رکھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے قانون کو بغیر کسی شرط کے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی رہی ہیں، لیکن، لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کیلئے ہونے والی حلقہ بندیوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو حلقہ بندی کے عمل سے الگ کیا جائے۔دوسری جانب کرن رجیجو نے خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کی وجہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کو بتایا۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۲۶ء کے بعد مردم شماری کے اعداد و شمار شائع کرنے کے عمل میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ذات پات پر مبنی مردم شماری کی وجہ سے اعداد و شمار کو حتمی شکل دینے اور ان کی اشاعت میں بھی وقت درکار ہوگا۔ ان کے مطابق اس وجہ سے خواتین کے ریزرویشن کا نفاذ کم از کم۲۰۳۴ءکے عام انتخابات سے پہلے مشکل ہو سکتا ہے۔