Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے دوران دنیا کے ۲۷؍ ممالک اقتصادی بحران کا شکار: ورلڈ بینک

Updated: May 23, 2026, 6:02 PM IST | New York

ورلڈ بینک کے دستاویزات ظاہر کررہے ہیں کہ دنیا کے ۲۷؍ ممالک بحرانی فنڈ تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں،تاہم دستاویز میں نہ تو ممالک کے نام بتائے گئے اور نہ ہی ممکنہ طور پر مانگی جانے والی فنڈز کی کل مقدار۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ورلڈ بینک کے دستاویزکے مطابق ایران جنگ کے دوران۲۷؍ ممالک بحرانی فنڈز تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیںکینیا اور عراق کے حکام نے پہلے ہی تصدیق کر دی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل کی جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ورلڈ بینک سے تیز رفتار مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔رائٹرز کی دیکھی گئی ایک اندرونی دستاویز کے مطابق، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے۲۷؍ ممالک نے ایسے بحرانی طریقہ کار کو اپنا رہے ہیںجس کی مدد سے موجودہ ورلڈ بینک پروگراموں سے تیزی سے فنڈنگ حاصل کر سکیں۔تاہم جمعہ کو جاری ورلڈ بینک کے دستاویز میں نہ تو ممالک کے نام بتائے گئے اور نہ ہی ممکنہ طور پر مانگی جانے والی فنڈز کی کل مقدار۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اب بھی انسانی صورتحال بد ترین: بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں

بعد ازاں دستاویز کے مطابق،۲۸؍ فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، تین ممالک نے نئے طریقہ کار کی منظوری دے دی تھی جبکہ باقی ابھی تک یہ عمل مکمل کر رہے ہیں۔ جبکہ جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں خلل نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور ترقی پذیر ممالک تک کھاد کی اہم ترسیل کو روک دیا ہے۔کینیا اور عراق کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ کے اثرات جیسے کہ افریقی ملک میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور عراق کی تیل کی آمدنی میں بھاری کمی سے نمٹنے کے لیے ورلڈ بینک سے تیز رفتار مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ۲۷؍ ممالک ان۱۰۱؍ ممالک میں شامل ہیں جن کے پاس کسی نہ کسی قسم کے پہلے سے ترتیب شدہ مالیاتی آلات موجود ہیں جنہیں وہ بحران میں استعمال کر سکتے ہیں، بشمول ۵۴؍ممالک جنہوں نے ریپڈ ریسپانس آپشن میں شمولیت اختیار کی ہے، جو ممالک کو ان کی غیر تقسیم شدہ مالیات کا ۱۰؍ فیصد استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
بعد ازاںورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے گزشتہ مہینے کہا تھا کہ بینک کا بحرانی ٹول کٹ ممالک کو پہلے سے ترتیب شدہ ہنگامی مالیات، موجودہ منصوبوں کے بیلنس، اور تیزی سے ادا کرنے والے آلات سے تقریباً۲۰؍ سے ۲۵؍ بلین ڈالر تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دے گا۔انہوں نے کہا کہ بینک اپنے پورٹ فولیو کے کچھ حصوں کو بھی تبدیل کر سکتا ہے تاکہ چھ ماہ میں کل رقم۶۰؍ بلین ڈالر تک لے جایا جا سکے، اور مزید طویل مدتی تبدیلیوں کے ذریعے کل رقم تقریباً۱۰۰؍ بلین ڈالر تک پہنچائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شام پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد ۱۵؍ لاکھ مہاجرین وطن لوٹے، ۱۸۰۰۰؍ کمپنیاں مندرج

واضح رہے کہ اس وقت، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ ایک درجن ممالک مدد کے لیے عالمی قرض دہندہ سے۲۰؍ سے۵۰؍ بلین ڈالر طلب کریں گے۔ لیکن معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق، اب تک بہت کم درخواستیں درج کی گئی ہیں۔ ایک ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ممالک یقینی طور پر دیکھو اور انتظار کرو کی حالت میں ہیں۔بوسٹن یونیورسٹی کے گلوبل ڈویلپمنٹ پالیسی سینٹر کے ڈائریکٹر کیون گالاگھر نے کہا کہ ممالک مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات کے بجائے ورلڈ بینک سے فنڈز حاصل کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے طریقہ کار میں عام طور پر کفایت شعاری کے اقدامات شامل ہوتے ہیں جو کینیا جیسے ممالک میں پہلے سے موجود سماجی بدامنی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK