اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ابو عاصم اعظمی، امین پٹیل اور امیت دیشمکھ کا پُرزور مطالبہ۔ اقلیتوں کیلئے فنڈ بڑھانے کی بھی مانگ ۔چھگن بھجبل نے یقین دلایا کہ تعلیم میں ریزر ویشن دیا جائے گا۔
ابو عاصم اعظمی۔ تصویر:آئی این این
مانسون اجلاس کے آخری دن جمعہ کو اراکین اسمبلی ابوعاصم اعظمی ، امین پٹیل اور امیت دیشمکھ نے اقلیتوں کے مسائل ،ا ن کے فنڈ اورمسلم طلبہ کو تعلیم میں ریزرویشن کا معاملہ اٹھایا۔
اقلیتی طبقوں کیلئے ۱۰؍ ہزار کروڑ دیئے جائیں
قانون ساز اسمبلی میں وقفہ ٔ سوالات میں رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے کہاکہ ’’ اقلیتی طلبہ کے ساتھ تعلیمی اسکیموں میں بہت زیادہ ناانصافی ہو رہی ہے۔ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے جب قانون بنایا تھا، اس وقت انہوںنے سماج کے کمزور طبقہ کو ریزرویشن دیاتھا تاکہ انہیں مین اسٹریم میں لایا جاسکے ۔حکومت نے سچر کمیٹی اور محمود الرحمان کمیٹی بنائی تھی۔ ان کمیٹیوں نے پورے ملک میں اقلیتی طبقے کا سروے کیا تھاجس کے بعد انہوںنے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسلمانوں کی حالت بہت ساری جگہوں پر دلت اور آدی واسیوں سے بھی خراب ہے۔اقلیتی طبقے ۲۰؍ فیصد ہے جس میں ۱۳؍ فیصد مسلمان ہیں۔اس سال کا پورا بجٹ ۸؍ لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔ اس میں سے ۲۰؍ فیصد مائناریٹی کو صرف ۸۰۰؍ کروڑ دیاگیا ہے ،جو مجموعی بجٹ کا ۰ء۱؍ فیصد بھی نہیں ہے۔اس میں بھی ۵۰؍ فیصد ہی خرچ کیاجاتا ہے۔ اس لئے میرا مطالبہ ۱۰؍ ہزار کروڑ دیا جائے ۔ غریب اقلیتی طلبہ کو ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء تک اسکالر شپ کی رقم اب تک نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے طلبہ اسکولوں کی فیس ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔اقلیتی امور کے وزیر کی جانب سے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ۲۵-۲۰۲۴ء، ۲۶-۲۰۲۵ء میں فائنانس ڈپارٹمنٹ کو گزشتہ ۳؍ اسمبلی اجلاس میں جو تجویز بھیجی گئی تھی، اسے نامنظور کر دیا گیا۔ کیا یہ اقلیتی طبقے کے ساتھ نا انصافی نہیں ؟انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ اقلیتی طبقوں کے طلبہ کی جو اسکالر شپ کی رقم رکی ہوئی ہے ،اسے کب دیاجائے گا؟اقلیتی اسکولوں کو انفرا اسٹرکچر کیلئے ہر سال ۱۰؍ لاکھ روپے دیئےجاتے تھے ،یہ نہیں دیئے جارہے ہیں ، یہ کب دیئے جائیں گے۔ ا س کے علاوہ جب سے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کا انتقال ہوا ہے، مائناریٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے ، وہ کب شروع ہوگا۔
حکومت کی جانب سے وزیر نرہری جروال نے ان سوالوںکا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’مائناریٹی اسکالرشپ کیلئے ۲۴-۲۰۲۳ء میں ۱۲۴؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ روپے یہ پورا خرچ کیا گیا ،۲۵-۲۰۲۴ء میں ۱۳۷؍ کروڑ ۱۶؍ لاکھ روپے میں سے ۱۳۶؍ کروڑ ۳۴؍ لاکھ خرچ کئے گئے، اسی طرح ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ۶۰؍ کروڑ ۷۵؍ کروڑ مختص کئے گئے تھے، ۵۹؍ کروڑ ۹۹؍ لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ آج بھی کئی طلبہ کو اسکالر شپ دینا باقی ہے ۔ اسکالر شپ دینے کیلئے ۲۶-۲۰۲۵ء کیلئے ۲۰۰؍ کروڑ کی ضرورت تھی جس میں سے فائنانس ڈپارٹمنٹ نے صرف ۶۰؍ کروڑ روپے دیئے ہیں۔سال ۲۷-۲۰۲۶ء میں ۸۰؍ کروڑ ۷۶؍ کروڑ روپے میں سے ۴۸؍ کروڑ ۸۶؍ لاکھ روپے ۲۵؍ جون ۲۰۲۶ء کو تقسیم کئے گئے تھے۔
اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے امیت ولاس را ؤ دیشمکھ نے کہاکہ ’’ اقلیتی طبقے کیلئے حکومت کی جانب سے کم فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ اقلیت میں ہیں اس لئے ان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ‘‘ انہوںنے کہاکہ مرکزی وزیراعظم ۱۵؍ نکاتی مائناریٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت اقلیتوں کی فلاح و بہبودکی اسکیمیں بنائی گئی ہیں لیکن ضلعی سطح پر اس کا جائزہ لینے کیلئے ضلع کلکٹر میٹنگ ہی نہیں لیتے ، اس لئے حکومت کو ضلع کلکٹروں کو یہ جائزہ میٹنگ منعقد کرنے کا حکم دینا چاہئے۔اردو، لائبریری ،مائناریٹی ہاسٹل وغیرہ تعمیر کرنا چاہئےاور ہر ضلع میں کم از کم ایک رہائشی اسکول شروع کرناچاہئے۔‘وزیر نرہری جروال نے یقین دلایا کہ مہنگائی کے اعتبار سے اسکالرشپ کی رقم کو بڑھانے ، اردو گھر اور رہائشی اسکول تعمیر کرنے کیلئے غور کیاجائے گا۔
فنڈ نہ ملنے پر مَیں استعفیٰ دے دیتا تھا
رکن اسمبلی امین پٹیل کہا کہ’’ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہےکہ اقلیتی محکمہ اب کچھ کام نہیں کر رہا ہے۔ یہ جیسے بند ہو گیا ہے۔ یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ اقلیتی محکمہ فنڈ مانگتا اور فائنانس محکمہ نہیں دے رہا ہے ۔ اگر مَیں اقلیتی امور کا وزیر ہوتا تو احتجاجاً استعفیٰ دے دیتا۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کےمطابق مسلمانوں کو تعلیم میں ۱۰؍ فیصد ریزرویشن دینا چاہئے۔ اسکالرشپ کی رقم جو باقی ہے، اسے فوراً ادا کی جائے اور مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن جہاں سے چھوٹے کاروبار کرنے کیلئے فنڈ دیاجاتا تھا ، وہ بھی بند کر دیا گیا ہے اسے کب فنڈ دیا جائے گا؟ اس پر نرہری جروال نے یقین دلایا کہ ’’ ہائی کورٹ کے ہدایت کے مطابق مسلمانوں کو تعلیم میں ۱۰؍ فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔‘‘
وزیر نتیش رانے اور امین پٹیل میں نوک جھونک
بحث کے دوران وزیر نتیش رانےکہاکہ ’’مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا ہے اس لئے وزیر کو غلط بولنے پرمجبور نہ کیاجائے۔‘‘ اس پر امین پٹیل نے وضاحت کی کہ مسلم سماج کے پسماندہ / مالی طور پر کمزور طبقے کیلئے ہی ریزرویشن کا مطالیہ کیا جارہا ہے۔اس دوران سینئر لیڈر اور وزیر چھگن بھجبل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے مسلمانوں کو تعلیم میں ۵؍ فیصد ریزرویشن دینے کا حکم دیا ہے۔اس پر عمل کیا جائے گا اور اس تعلق سے وزیر اعلیٰ او رنائب وزیر اعلیٰ سے گفتگو کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ کچھ مسلم جو او بی سی میں آتے ہیں، انہیں او بی سی کی سہولت مل رہی ہے۔