• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ اکنامک فورم ، داوس ۲۰۲۶ء اس کے بانی کے بغیر شروع

Updated: January 20, 2026, 9:58 PM IST | davos

ورلڈ اکنامک فورم کارپوریٹ لیڈروں اور عالمی سربراہانِ مملکت کے لیے ہمیشہ ایک نمایاں اجتماع رہا ہے۔ تاہم اس سال جنیوا میں قائم اس تھنک ٹینک نے، جس نے۱۹۷۱ء میں اپنا پہلا سربراہی اجلاس منعقد کیا تھا، فورم کے بانی کلاوس شواب کے بغیر آغاز کیا۔

 Klaus Schwab.Photo:INN
کلاوس شواب- تصویر:آئی این این

ورلڈ اکنامک فورم کارپوریٹ لیڈروں اور عالمی سربراہانِ مملکت کے لیے ہمیشہ ایک نمایاں اجتماع رہا ہے۔ تاہم اس سال جنیوا میں قائم اس تھنک ٹینک نے، جس نے۱۹۷۱ء میں اپنا پہلا سربراہی اجلاس منعقد کیا تھا، فورم کے بانی کلاوس شواب کے بغیر آغاز کیا۔ یہ پیش رفت ایک مخبر کے خط کے بعد سامنے آئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ شواب اور ان کی اہلیہ ہِلڈے مالی اور اخلاقی بدعنوانی میں ملوث تھے۔
 خط کے بارے میں معلوم ہونے کے بعدبورڈ نے ۲۰۲۵ء میں متفقہ طور پر شواب کے خلاف ایک آزادانہ تحقیقات کی حمایت کی۔ یہ فیصلہ خبر رساں ادارے دی وال اسٹریٹ جرنل کی شائع کردہ رپورٹ کے بعد کیا گیا۔ رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے دو دن بعد، ورلڈ اکنامک فورم (وی ای ایف) نے اعلان کیا کہ شواب نے چیئرمین کے عہدے سے ’’فوری طور پر‘‘ ریٹائرمنٹ لے لیاہے۔

یہ بھی پڑھئے:میرا برانڈ رام مندر میں نہیں پہننا: کنگنا رناوت کا مسابا کے متعلق دعویٰ

سوئس الپس کے قصبے داوس میں ہونے والے اس فورم میں ۱۳۰؍ممالک سے ۳؍ہزار شرکا شریک ہوں گے، جن میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کے ۸۵۰؍ چیف ایگزیکٹیوز افسران اور چیئرمینز شامل ہیں۔ یہ  فورم  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی شرکت کا تیسرا سال بھی ہوگا۔ ان کا دورۂ امریکہ میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران ہو رہا ہے، جہاں منیسوٹا میں ایک ہلاکت کے بعد مہاجرین نے فورسیز کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:تجارتی جنگ کا خطرہ ،سرمایہ کاروں کی توجہ سونا اور چاندی پر

اس کے علاوہ، امریکی افواج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد، دنیا بھر کے قانون ساز اور کاروباری لیڈرابھرتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ، جو گزشتہ سال تک ممالک کے درمیان امن کی ثالثی کر رہے تھے اور نوبیل امن انعام کے خواہاں دکھائی دیتے تھے، اپنی حالیہ سرگرمیوں کے ساتھ بظاہر اس کے بالکل برعکس سمت میں جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK