Updated: June 15, 2026, 8:59 PM IST
| New York
دنیا میں ہر ۱۷؍ میں سے ایک بچہ مزدورہے جبکہ ہندوستان میںایک کروڑ ۱۰؍ لاکھ بچے مزدوری کررہے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے۱۲؍ جون کو یومِ عالمی بچہ مزدوری مخالف کے موقع پر کہا کہ بچوں کی مزدوری کے خاتمے کے عالمی عزم کے باوجود، لاکھوں بچے ایسے حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں جو ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے مواقع کے لیے خطرہ ہیں۔
دنیا میں ہر ۱۷؍ میں سے ایک بچہ مزدورہے جبکہ ہندوستان میںایک کروڑ ۱۰؍ لاکھ بچے مزدوری کررہے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے۱۲؍ جون کو یومِ عالمی بچہ مزدوری مخالف کے موقع پر کہا کہ بچوں کی مزدوری کے خاتمے کے عالمی عزم کے باوجود، لاکھوں بچے ایسے حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں جو ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے مواقع کے لیے خطرہ ہیں۔بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً۱۳؍ اعشاریہ ۸؍ کروڑ بچے مزدوری میں مصروف ہیں، جن میں سے قریب۵؍اعشاریہ ۴؍کروڑ بچے خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق۵؍ سے۱۴؍ سال کے تقریباً ایک کرکروڑ بچے کام کر رہے تھے۔ فی الحال اتر پردیش، بہار، راجستھان، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش سمیت ریاستیں ملک کے کام کرنے والے بچوں میں سے۵۵؍ فیصد کی حصہ دار ہیں۔ ماہرین نے بچوں کی مزدوری کو انتہائی غربت، ناکافی تعلیمی ڈھانچے اور مضبوط صنفی روایات سے جوڑا ہے۔اقوام متحدہ نے۲۰۱۵ء میں ۲۰۲۵ء تک بچوں کی مزدوری ختم کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن یہ ہدف ابھی تک پورا نہیں ہو سکا۔ اس کے برعکس، بچوں کی مزدوری کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق۲۰۲۱ء میں بچوں کی مزدوری میں۸۴؍ لاکھ کا اضافہ ہوا، اور کووِڈ- وبا کے بعد لاکھوں مزید بچے کمزوری کا شکار ہو گئے۔
صحارا افریقہ میں دنیا بھر میں بچوں کی مزدوری کرنے والے تمام بچوں کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے، جو قریب ۸؍ اعشاریہ ۷؍کروڑ بچوں پر مشتمل ہے۔ اس خطے میں زیادہ تر بچے مزدور زراعت میں مصروف ہیں، جہاں۸۵؍ فیصد بچوں کی مزدوری زرعی شعبے میں ہے۔اس کے برعکس، ایشیا اور بحر الکاہل کے ممالک میں بچوں کی مزدوری کی شرح میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں ۲۰۲۰ء سے یہ شرح تقریباً۳؍ فیصد کم ہوئی ہے۔جبکہ زراعت دنیا بھر میں بچوں کو سب سے زیادہ ملازمت دینے والا شعبہ ہے۔ تقریباً۲۷؍ فیصد کام کرنے والے بچے سروس سیکٹر میں ملازم ہیں، جبکہ تقریباً ۱۳؍ فیصد صنعتی شعبوں جیسے کان کنی اور تعمیرات میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ یونیسف کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق،۵؍ سے۱۱؍ سال کے بچوں کو بچہ مزدور اس وقت سمجھا جاتا ہے جب وہ کم از کم ایک گھنٹہ معاشی کام کریں۔۱۲؍ سے۱۴؍ سال کے بچے اس زمرے میں آتے ہیں اگر وہ۱۴؍ گھنٹے معاشی سرگرمی یا۲۱؍ گھنٹے بلا معاوضہ گھریلو کام کریں۔ جبکہ ۱۵؍ سے۱۷؍ سال کے بچوں کو بچہ مزدور سمجھا جاتا ہے اگر وہ ہفتے میں۴۳؍ گھنٹے سے زیادہ کام کریں۔علاوہ ازیں اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ لڑکے ،لڑکیوں کے مقابلے میں بچہ مزدوری میں قدرے زیادہ شرح سے مصروف ہیں، جس کی شرح بالترتیب۹؍ فیصد اور۷؍ فیصد ہے۔بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے کہا، ’’یہ ناقابلِ قبول ہے ،ہمیں کارروائی تیز کرنی ہوگی۔‘‘حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی مزدوری کے خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مضبوط حکومتی مداخلت، بین الاقوامی تعاون اور دنیا بھر میں کمزور سماج کے لیے ہدفی امداد کی ضرورت ہوگی۔