• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دنیا کو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف متحد ہونا ہوگا‘‘

Updated: September 02, 2026, 1:33 PM IST | Agency | New Delhi

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ہندوستان نے ۳؍ نکاتی ویژن پیش کیا، وزیراعظم مودی نے پاکستان کو گھیرا۔

PM Modi had spoken with Iranian President Pezeshkian on Monday. Picture: INN
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی صدر پزشکیان سے گفتگوکی تھی۔ تصویر: آئی این این

وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ۲۶؍ ویں سربراہی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ہندوستان کی ترجیحات کو سلامتی، رابطہ کاری اور مواقع کے ۳؍ بنیادی ستونوں سے جوڑا۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ اجلاس میں انہوں نے تنظیم کے آئندہ ۲۵؍برس کیلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز تعاون پر زور دیا اور دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر متحد ہوکر کارروائی کی ضرورت اجاگر کی۔پاکستانی وزیر اعظم اور چینی صدر کی موجودگی میں وزیراعظم مودی نے دہشت گردی کے حوالے سے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے مکمل نظام کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ و ایران کی جنگ بندی نازک ثابت ہوئی: پوتن کا ایران کی حمایت کا اعلان

وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی آج بھی پوری انسانیت کیلئے  ایک سنگین چیلنج ہے اور اس حساس معاملے پر دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک دہشت گردی کو اپنی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں یا دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور حمایت فراہم کرتے ہیں، انہیں واضح پیغام دیا جانا چاہیے کہ دہشت گردی کسی بھی ملک کے لیے اسٹریٹجک اثاثہ نہیں بن سکتی۔ وزیراعظم مودی نے ایس سی او کے آئندہ۲۵؍ برس کیلئے سب سے پہلے امن اور سلامتی کو بنیادی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک محفوظ اور پُرامن یوریشیا کا خواب افغانستان میں امن و استحکام سے بھی وابستہ ہے۔ ہندوستان افغانستان کے عوام کے لیے انسانی امداد اور ترقیاتی تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کا اثر عالمی توانائی کی سلامتی، سمندری تجارت اور سپلائی چینز پر پڑتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر پڑتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کا مستقل حل بات چیت اور سفارتکاری سے کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK