روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ نازک ثابت ہوا، ساتھ ہی ایران کی حمایتکی یقین دہانی بھی کرائی۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 1:12 PM IST | Mascow
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ نازک ثابت ہوا، ساتھ ہی ایران کی حمایتکی یقین دہانی بھی کرائی۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو کہا کہ جون کے میمورنڈم کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی غیر مستحکم اور بہت نازک ثابت ہوئی، اور انہوں نے تہران کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔کرغزستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران پوتن نے موجودہ فوجی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان ایران کے لیے ماسکو کی حمایت پر زور دیا۔پوتن نے کہا، ’’ہم نے اس سال جون میں ایرانی-امریکی جنگ بندی کے میمورنڈم کے اختتام کا خیرمقدم کیا، لیکن بدقسمتی سے یہ جنگ بندی غیر مستحکم اور بہت نازک ثابت ہوئی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال
انہوں نے مزید کہا کہ روس اس مشکل دور میں ایران کو ضروری اشیاء کی فراہمی سمیت ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔انہوں نے نوٹ کیا کہ کشیدگی کے باوجود ماسکو اور تہران نے گزشتہ سال کی تجارتی اور اقتصادی تعاون کی رفتار کو برقرار رکھا ہے۔روسی صدر نے دوطرفہ بین الحکومتی کمیشن کے باقاعدہ کام اور یوریشین اکنامک یونین اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا ذکر اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے والے عوامل کے طور پر کیا۔پوتن نے انسانی اور تعلیمی تعاون میں اضافے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ تعلیمی سال۲۰۲۵ء-۲۰۲۶ء میں روس میں ایرانی طلباء کی تعداد۹۰۰۰؍ کے قریب پہنچ گئی ہے، جن میں سے۸۰۲؍ روسی ریاست کی مالی امداد سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اپنی طرف سے، پزشکیان نے کہا کہ،’’ ایران یک قطبی عالمی نظام سے دور ہونے کے حوالے سے روس کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے تہران اور ماسکو کے تعلقات کو ’’اسٹریٹجک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’یہ ایران کو امریکہ کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔‘‘ ایرانی صدر نے یہ بھی اعتماد ظاہر کیا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ اپنی جنگ میں کامیاب ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں لیڈرانبشکیک میں ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شریک تھے، جو تنظیم کی۲۵؍ ویں سالگرہ کا موقع ہے اور جس میں رکن ممالک کے لیڈران شریک ہیں۔