انٹارکٹکا سے ٹوٹنے والا دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ A23a، جو چار دہائیوں تک سمندر میں گردش کرتا رہا، اب تیزی سے پگھل رہا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق اس کا مکمل خاتمہ قریب ہے۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 3:00 PM IST | London
انٹارکٹکا سے ٹوٹنے والا دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ A23a، جو چار دہائیوں تک سمندر میں گردش کرتا رہا، اب تیزی سے پگھل رہا ہے اور سائنسدانوں کے مطابق اس کا مکمل خاتمہ قریب ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ سمجھے جانے والا A23a، جو گزشتہ چالیس برس سے سمندر میں موجود تھا، اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ماہرین اور سیٹیلائٹ تصاویر کے مطابق یہ عظیم الجثہ برفانی تودہ تیزی سے پگھل رہا ہے اور جلد مکمل طور پر تحلیل ہو سکتا ہے۔ اے ۲۳؍ اے ۱۹۸۶ء میں انٹارکٹکا کے ایک بڑے برفانی شیلف سے الگ ہوا تھا۔ طویل عرصے تک یہ سمندر کی تہہ میں پھنسا رہا، جس کی وجہ سے اس کی حرکت محدود رہی اور پگھلنے کی رفتار بھی سست تھی۔ کئی دہائیوں بعد یہ آزاد ہوا اور آہستہ آہستہ شمال کی جانب بڑھنے لگا، جہاں نسبتاً گرم سمندری پانیوں نے اس کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: عام بجٹ۲۷۔۲۰۲۶ء: کاروبار میں آسانی پر توجہ، خواتین کے لیے مواقع میں اضافہ
ایک وقت میں A23a کا رقبہ ہزاروں مربع کلومیٹر پر محیط تھا اور اسے دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ قرار دیا گیا۔ تاہم حالیہ برسوں میں اس کے حجم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تازہ سیٹیلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئس برگ کی سطح پر گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں، بڑے ٹکڑے الگ ہو رہے ہیں اور برف کی مضبوط ساخت اب نرم، نیلے رنگ کے گودے جیسی شکل اختیار کر رہی ہے، جو اس کے خاتمے کی واضح علامت سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آئس برگ گرم پانیوں میں داخل ہوتا ہے، سمندر کی حرارت اس کے نچلے حصے کو تیزی سے پگھلاتی ہے، جبکہ اوپر سے سورج کی روشنی بھی عمل کو مزید تیز کر دیتی ہے۔ اس دوہری حرارت کے باعث A23a کی زندگی اب دنوں یا ہفتوں تک محدود سمجھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر پر سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کو اہم ہدایت
سائنسداں اس عمل کو قدرتی بھی قرار دیتے ہیں کیونکہ ہر آئس برگ آخرکار پگھل جاتا ہے، لیکن A23a کی طویل عمر اور موجودہ تیز رفتار تحلیل کو عالمی حدت اور سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے بڑے آئس برگوں کے پگھلنے سے سمندری نظام، نمکیات اور ماحولیاتی توازن پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن کا مطالعہ مستقبل کے لیے اہم ہے۔ اگرچہ A23a کے پگھلنے سے سمندر کی سطح میں فوری بڑا اضافہ متوقع نہیں، تاہم یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انٹارکٹکا میں ہونے والی تبدیلیاں عالمی موسمی نظام سے جڑی ہوئی ہیں۔ A23a کی چالیس تاریخ سائنس کے لیے قیمتی ڈیٹا چھوڑ جائے گی، جو آنے والے برسوں میں موسمیاتی تحقیق میں مددگار ثابت ہو گی۔