Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ پر یورپ اور خلیجی خدشات: ہجرت، توانائی اور سلامتی کو خطرہ

Updated: March 07, 2026, 9:21 PM IST | Dubai

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر یورپی اور خلیجی ممالک میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے متعلق طویل جنگ یورپ کیلئے توانائی کی فراہمی، ہجرت اور سلامتی کے بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

(۱) ایران جنگ امریکی مالیات پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے: ماہرین کا انتباہ
ماہرینِ معاشیات اور پالیسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی امریکہ کے پہلے سے دباؤ کا شکار عوامی مالیاتی نظام پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے۔ ایک رپورٹ میں اس تنازع کے معاشی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس جنگ میں ’’کوئی معاشی فائدہ نہیں‘‘، جبکہ دفاعی اخراجات میں اضافے کے باعث مالیاتی بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
فوجی کارروائیاں، جن میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے اور میزائلوں کی تعیناتی شامل ہیں، بے حد مالی وسائل کی متقاضی ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید جنگ کی لاگت، خصوصاً درست نشانے والے ہتھیاروں اور جدید میزائل دفاعی نظاموں کے استعمال کے باعث، بہت تیزی سے اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ تنازع عالمی معیشت میں بھی وسیع خلل پیدا کر سکتا ہے، جس میں توانائی کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور مختلف حکومتوں کی جانب سے سلامتی کے اخراجات میں اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے عوامل بین الاقوامی مالیاتی نظام، تجارت اور سرمایہ کاری پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوجی کارروائیاں طویل ہو گئیں تو پالیسی سازوں کو دفاعی اخراجات اور داخلی ترقیاتی ترجیحات کے درمیان مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس کے معاشی اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ میں شدت: میزائل، ڈرون حملے اور اربوں ڈالر کے فوجی اخراجات

(۲) جنگ کے باعث اسرائیل کے چھوٹے کاروبار شدید مشکلات کا شکار
ایران سے متعلق جاری تنازع نے اسرائیل کی داخلی معیشت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں چھوٹے کاروبار شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کاروباری افراد اور مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث صارفین کی سرگرمیوں میں کمی اور مختلف شعبوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ریٹیل، سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ چھوٹے کاروبار عام طور پر مقامی طلب پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جو تنازع اور عدم استحکام کے دوران تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔
سیکوریٹی اقدامات میں اضافے اور کشیدگی کے خدشات کے باعث تجارتی علاقوں میں لوگوں کی آمد کم ہو گئی ہے جبکہ سفر کے کئی منصوبے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
کاروباری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عدم استحکام طویل ہو گیا تو بہت سے چھوٹے کاروبار بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس طویل معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کیلئے مالی وسائل محدود ہوتے ہیں۔ کچھ کمپنیوں نے پہلے ہی آمدنی میں کمی اور آپریشنل اخراجات میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق جہاں دفاعی صنعتوں کو جنگی اخراجات میں اضافے سے فائدہ ہو سکتا ہے، وہیں شہری معیشت کے چھوٹے کاروبار اکثر اس کے معاشی نتائج برداشت کرتے ہیں۔

(۳) جنگ کے باعث امریکی دفاعی صنعت میں پیداوار بڑھانے کی تیاری
امریکہ کی دفاعی کمپنیاں ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کے دوران ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق جدید میزائلوں اور فضائی دفاعی نظاموں کے وسیع استعمال کے باعث امریکی اسلحہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور بی اے ای سسٹمز جیسی بڑی کمپنیوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جاری فوجی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں گی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید نوعیت کے تنازعات میں جدید اور پیچیدہ ہتھیار بڑی مقدار میں کم وقت میں استعمال ہو جاتے ہیں، اس لئے حکومتوں کو اس بات کو یقینی بنانا پڑتا ہے کہ پیداوار کی رفتار جنگی ضروریات کے مطابق رہے۔
اسلحہ سازی کے آرڈرز میں اضافے سے دفاعی صنعت کو اربوں ڈالر کے نئے معاہدے مل سکتے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ فوجی پیداوار میں اضافہ طویل تنازعات کے معاشی اور سیاسی محرکات کے بارے میں بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خیبر شکن میزائلوں سے تل ابیب لرز اُٹھا

(۴) مشرق وسطیٰ جنگ کے اثرات، دبئی میں سونا عالمی قیمت سے ۳۰؍  ڈالر سستا
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی سونے کی تجارت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں دبئی میں تاجروں کو بلین عالمی قیمت سے نمایاں رعایت پر فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق کچھ ڈیلرز لندن کے عالمی بینچ مارک کے مقابلے میں فی اونس ۳۰؍ ڈالر تک کم قیمت پر سونا فروخت کر رہے ہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی صورتحال بنیادی طور پر لاجسٹک مسائل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی فضائی حدود جزوی طور پر محدود ہو گئی ہیں جس سے کارگو پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔
عام طور پر سونا مسافر طیاروں کے کارگو ہولڈ میں منتقل کیا جاتا ہے، لیکن پروازوں میں کمی کے باعث کئی کھیپ دبئی میں پھنس گئی ہیں۔ خریداروں نے بھی نئے آرڈرز روک دیے ہیں کیونکہ ترسیل کے وقت اور انشورنس اخراجات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
یہ خلل ہندوستان میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے جو دبئی سے سونے کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی بلین مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK