Updated: March 07, 2026, 10:16 PM IST
| Washington
امریکہ میں بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقات میں نیا موڑ اس وقت آیا جب امریکی محکمہ انصاف نے ایف بی آئی کی مزید دستاویزات جاری کر دیں۔ جاری ہونے والی رپورٹس میں ۲۰۱۹ء کے کے انٹرویوز شامل ہیں جن میں ایک خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں، جب وہ نابالغ تھیں، ان کی ملاقات ڈونالڈ ٹرمپ سے کرائی گئی اور انہوں نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
امریکہ میں بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں امریکی محکمہ انصاف نے ایف بی آئی کے مزید دستاویزات جاری کر دئیے ہیں۔ امریکی وزارتِ انصاف نے ۲۰۱۹ء کی ایف بی آئی انٹرویو رپورٹس جاری کی ہیں جو ایک ایسی خاتون سے متعلق ہیں جس نے غیر مصدقہ الزامات لگائے تھے کہ۱۹۸۰ء کی دہائی میں، جب وہ نابالغ تھیں، ڈونالڈ ٹرمپ نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں وزارتِ انصاف نے کہا کہ ابتدا میں جیفری ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات کی دستاویزات کو جنوری میں ہونے والی اشاعت کے وقت روک لیا گیا تھا کیونکہ انہیں غلطی سے ڈپلیکیٹ قرار دے کر الگ رکھا گیا تھا۔ وزارتِ انصاف کے مطابق تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا کہ ۱۵؍ دستاویزات کو غلطی سے ڈوپلیکیٹ قرار دے کر روک دیا گیا تھا۔
وزارتِ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق مزید سیکڑوںصفحات کے ریکارڈز بھی پوسٹ کیے ہیں، جن میں فلوریڈا اور نیویارک میں ایپسٹین کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں گواہوں کے انٹرویوز کے خلاصے شامل ہیں۔ جمعرات کو جاری ہونے والی ایف بی آئی ۳۰۲؍رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی نے جولائی اور اکتوبر۲۰۱۹ء کے درمیان مذکورہ خاتون کے چار انٹرویو کیے تھے۔ ان انٹرویوز میں خاتون (جس کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے) نے ایپسٹین پر زیادتی کے الزامات لگائے تھے۔ وفاقی تفتیش کاروں کے ساتھ اپنے دوسرے انٹرویو میں خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ ایپسٹین اسے نیویارک یا نیو جرسی لے گیا تھا جہاں اس کی ملاقات ٹرمپ سے کرائی گئی، اس وقت خاتون کی عمر ۱۵؍سال سے کم ہی تھی ۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں ۹؍ امریکی شہری ہلاک
رپورٹ کے مطابق، خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس دورے پر ٹرمپ نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اکتوبر ۲۰۱۹ء کے چوتھے انٹرویو میں خاتون نے ٹرمپ کے ساتھ مبینہ واقعے کی مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ خاتون کے بیانات کے مطابق یہ واقعہ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے اوائل یا وسط میں پیش آیا، جبکہ ریکارڈز کے مطابق اس دور میں ایپسٹین اور ٹرمپ کے درمیان رابطے کے شواہد نہیں ملتے۔ وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ذہنی طور پر پریشان خاتون کے بے بنیاد الزامات ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جو بائیڈن کا محکمہ انصاف چار سال سے ان الزامات سے واقف تھا لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صدر ٹرمپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔ دوسری جانب، محکمہ انصاف نے جنوری میں جاری ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ان فائلوں میں ٹرمپ کے خلاف کچھ ایسے سنسنی خیز اور جھوٹے دعوے شامل ہیں جو۲۰۲۰ء کے انتخابات سے عین قبل ایف بی آئی کو جمع کرائے گئے تھے اور ان میں صداقت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔