عام بجٹ پیش ہونے میں اب دو ہفتوں سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بجٹ میں حکومت کی توجہ کاروبار میں آسانی بڑھانے پر ہونی چاہیے، تاکہ تاجروں کے لیے پہلے کے مقابلے میں کاروبار کرنا مزید آسان ہو سکے۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 12:06 PM IST | New Delhi
عام بجٹ پیش ہونے میں اب دو ہفتوں سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بجٹ میں حکومت کی توجہ کاروبار میں آسانی بڑھانے پر ہونی چاہیے، تاکہ تاجروں کے لیے پہلے کے مقابلے میں کاروبار کرنا مزید آسان ہو سکے۔
عام بجٹ پیش ہونے میں اب دو ہفتوں سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بجٹ میں حکومت کی توجہ کاروبار میں آسانی بڑھانے پر ہونی چاہیے، تاکہ تاجروں کے لیے پہلے کے مقابلے میں کاروبار کرنا مزید آسان ہو سکے۔
ایک خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیکس ماہر منموہن شری واستو کاجو نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ بجٹ میں انکم ٹیکس میں چھوٹ بڑھا کر۱۲؍ لاکھ روپے تک کر دی تھی، جس سے عام عوام کو کافی راحت ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جی ایس ٹی ۰ء۲؍ کے تحت ٹیکس سلیب کی تعداد گھٹا کر دو کر دی گئی ہے۔
انہوں نے عام بجٹ۲۷۔۲۰۲۶ء کے حوالے سے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس بجٹ میں کاروبار میں آسانی کو فروغ دینے پر توجہ دینی چاہیے۔ موجودہ وقت میں تاجروں کو جی ایس ٹی پورٹل پر بعض مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جی ایس ٹی پورٹل پر نوٹس موصول ہوتے ہیں، لیکن بڑی تعداد میں لوگ انہیں باقاعدگی سے چیک نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے کئی بار انہیں زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ بند ہو چکا فزیکل خط و کتابت کا نظام دوبارہ شروع کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:پریش راول نے اے آر رحمان کو ملک کا فخر قرار دیا
ایک اور ماہر معاشیات زینب نے کہا کہ حکومت کو آنے والے بجٹ میں خواتین کے لیے تمام شعبوں، خاص طور پر میڈیکل کے میدان میں، مواقع بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کی حفاظت پر بھی توجہ دی جانی چاہیے اور ایسی اسکیمیں لائی جانی چاہئیں، جو خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔ عام بجٹ ۲۷۔۲۰۲۶ء کو یکم فروری کو وزیر خزانہ نرملا سیتارمن پارلیمنٹ میں پیش کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے:جوکووچ کی میلبورن پارک میں فتوحات کی سنچری مکمل، پیڈرو مارٹنیز کو شکست دے دی
یہ بجٹ نرملا سیتارمن کی جانب سے مسلسل نواں بجٹ ہوگا۔ وہ سی ڈی دیش مکھ (۷؍ بجٹ) کے بعد سب سے زیادہ مسلسل بجٹ پیش کرنے کا ریکارڈ پہلے ہی قائم کر چکی ہیں۔ اگر وہ مالی سال ۲۰۲۸ء کا بجٹ بھی پیش کرتی ہیں تو وہ آنجہانی مورار جی دیسائی کے ریکارڈ کی برابری کر لیں گی، جنہوں نے دو ادوارِ حکومت ۱۹۵۹ء سے ۱۹۶۴ء کے درمیان ۶؍ اور۱۹۶۷ء سے ۱۹۶۹ءکے درمیان چاربار مجموعی طور پر ۱۰؍ بجٹ پیش کیے تھے۔