Inquilab Logo Happiest Places to Work

بجلی کا زوردار جھٹکا لگنے سےنوجوان شدید زخمی

Updated: March 23, 2026, 11:50 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

خودکشی کرنے کیلئے کلیان اسٹیشن کے کھمبے پر چڑھ گیا تھا، کئی گھنٹوں تک ٹرین خدمات متاثر رہیں۔

A man attempting suicide can be seen on a pole. Photo: INN
خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کو کھمبے پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

سینٹرل ریلوے کے انتہائی مصروف کلیان ریلوے اسٹیشن پر اتوار کو ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جس نےمسافروں میں خوف و ہراس پیدا کردیا۔ ایک نامعلوم سرپھرے شخص نے اچانک ریلوے کے ہائی وولٹیج اوورہیڈ وائر کے کھمبے پر چڑھ کر خودکشی کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پورے اسٹیشن پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اس خطرناک ڈرامے کے باعث ریلوے انتظامیہ کو فوری طور پر پلیٹ فارم نمبر ایک سے پلیٹ فارم نمبر ۴ ؍کی بجلی منقطع کرنی پڑی جس کے سبب کئی لوکل اور طویل مسافت کی ٹرینیں کلیان ریلوے اسٹیشن سے قبل ہی روک دی گئیں اور ریلوے کا معمول کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: کشیلی فرنیچر مارکیٹ میں آتشزدگی ،۱۷؍ دکانیں خاکستر، لاکھوں کا نقصان

تفصیلات کے مطابق دوپہر تقریباً ۲؍ بجے ایک نامعلوم شخص کلیان اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک کے قریب نصب بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا۔ اسے تاروں کے قریب دیکھ کر مسافروں میں چیخ و پکارمچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) اور ریلوے پروٹیکشن فورس(آر پی ایف) کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے اسے نیچے اتارنے کیلئے گھنٹوں منت سماجت کی اور ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ شخص کسی کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ 
تقریباً ۲؍ گھنٹے بعد وندے بھارت ٹرین کیلئے بجلی بحال کی گئی جوتاخیر کے بعد جب پلیٹ فارم نمبر ۴؍ پر پہنچی تھی۔ تب تک اسٹیشن پر مسافروں کا جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا۔ کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد اچانک وہ شخص بجلی کی لہروں کی زد میں آ گیا اور ایک زوردار دھماکے کے ساتھ کرنٹ لگنے کے باعث اونچائی سے نیچے گر گیا۔ پولیس نے فوری طور پر اسےرکمنی بائی سرکاری اسپتال پہنچایا تاہم حالت زیادہ بگڑنے پر اسے علاج کیلئے ممبئی کے سائن اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK