آپ کا مشن اے آئی کو تباہ کرنا ہے: ہارورڈ میں اداکار رونی چیانگ کا خطاب وائرل
Updated: June 02, 2026, 3:59 PM IST
| Cambridge
امریکی کامیڈین اور ٹی وی میزبان Ronny Chieng نے ہارورڈ یونیورسٹی کی کلاس ڈے تقریب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے خلاف ایک طنزیہ مگر پرجوش خطاب کرکے توجہ حاصل کر لی۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ ان کی نسل کا مشن اے آئی کو ’’تباہ کرنا‘‘ ہونا چاہیے، جس پر حاضرین نے خوب تالیاں بجائیں۔ دوسری جانب متعدد یونیورسٹیوں میں خطاب کرنے والے کاروباری لیڈروں نے اے آئی کو مستقبل کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو سمجھیں اور اس کی تشکیل میں کردار ادا کریں۔
اداکار رونی چیانگ خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور روزگار کے مستقبل سے متعلق خدشات کے درمیان امریکی جامعات میں منعقد ہونے والی گریجویشن تقریبات میں اے آئی ایک اہم موضوع بن کر ابھرا ہے۔ تاہم، اس بحث کو اس وقت ایک نیا رخ ملا جب معروف کامیڈین اور دی ڈیلی شو کے میزبان Ronny Chieng نے ہارورڈ یونیورسٹی کی کلاس ڈے تقریب میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی نسل کا مشن اے آئی کو تباہ کرنا ہے۔‘‘ ہارورڈ کے طلبہ سے خطاب کے دوران چیانگ نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’کیا میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اے آئی کو بھول جاؤ؟‘‘ ان کے اس جملے پر حاضرین نے تالیاں بجا کر بھرپور ردعمل ظاہر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ جبکہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں دیگر مقررین نوجوانوں کو اے آئی میں مہارت حاصل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، وہ انہیں یہ بتانے آئے ہیں کہ ان کا اصل مشن اے آئی کو روکنا ہے۔
چیانگ نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت لوگوں کو آسان راستوں کی طرف لے جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں حقیقی سیکھنے، تخلیقی صلاحیت اور عملی تجربے کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ اب ای میلز پڑھنے، ان کا خلاصہ تیار کرنے اور جواب لکھنے جیسے بنیادی کام بھی اے آئی کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’تخلیق کا عمل ہی اصل لطف ہے۔ سفر صرف مہارت حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یہی سفر پوری کہانی کا مقصد ہوتا ہے۔‘‘ رونی چیانگ کے برعکس دیگر ممتاز مقررین نے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کی سمت متعین کرنے کی ترغیب دی۔ گوگل کے سابق سی ای اور Eric Schmidt نے ایریزونا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان نسل کے اندر یہ خوف موجود ہے کہ مشینیں روزگار کے مواقع ختم کر دیں گی، لیکن ان کے مطابق طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
شمٹ نے کہا کہ ’’آپ کی نسل کو یہ احساس ہے کہ مستقبل شاید پہلے ہی لکھا جا چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ خود مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل کر سکتے ہیں۔‘‘ اسی طرح کاروباری شخصیت گلوریا کول فیلڈ نے سینٹرل فلوریڈا یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران مصنوعی ذہانت کو ’’اگلا صنعتی انقلاب‘‘ قرار دیا۔ تاہم ان کے اس بیان پر بھی بعض طلبہ نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ مصنوعی ذہانت پر یہ متضاد آراء ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب دنیا بھر کی متعدد بڑی کمپنیاں اے آئی کو اپنے کاروباری ڈھانچے کا مرکزی حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کئی اداروں نے حالیہ مہینوں میں ملازمین کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ مختلف شعبوں میں اے آئی ایجنٹس اور خودکار نظاموں کا استعمال بڑھائیں گے۔
اسی وجہ سے یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے بہت سے نوجوانوں میں مستقبل کے روزگار کے حوالے سے بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی بعض روایتی ملازمتوں کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن یہ نئی مہارتوں اور نئے پیشہ ورانہ مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کے نتیجے میں انسانی تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور براہ راست تجربے کی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اظہار رونی چیانگ نے اپنے خطاب میں کیا۔ فی الحال یہ بحث جاری ہے کہ آیا اے آئی نوجوانوں کے لیے خطرہ ہے یا موقع، لیکن ایک بات واضح ہے کہ گریجویشن تقریبات سے لے کر کارپوریٹ دنیا تک، مصنوعی ذہانت مستقبل کے بارے میں ہونے والی ہر بڑی گفتگو کا مرکزی موضوع بن چکی ہے۔
This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience
and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree
to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK