Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوٹیوب نے آنند پٹوردھن کی ایوارڈ یافتہ فلم ’فادر، سن اینڈ ہولی وار‘ ہٹا دی، فلمساز نےاسے سینسرشپ کہا

Updated: June 09, 2026, 9:15 PM IST | New Delhi

یہ پہلی بار نہیں ہے جب یوٹیوب نے پٹوردھن کی کسی دستاویزی فلم کو نشانہ بنایا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں، ویڈیو پلیٹ فارم نے ان کی ۱۹۹۲ء کی دستاویزی فلم ”رام کے نام“ پر عمر کی حد کی پابندی لگا دی تھی۔ اس ڈاکیومنٹری میں بابری مسجد کو شہید کرنے کیلئے ہندو دائیں بازو کی تحریک کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

Anand Patwardhan. Photo: X
آنند پٹوردھن۔ تصویر: ایکس

دستاویزی فلمیں بنانے کیلئے مشہور فلم ساز آنند پٹوردھن نے پیر کے دن بتایا کہ یوٹیوب نے ان کی ۱۹۹۵ء کی فلم ”فادر، سن اینڈ ہولی وار“ (Father, Son and Holy War) کو پرتشدد مواد پر مبنی قرار دیتے ہوئے ان کے آفیشل چینل anandverite سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فلم، جسے مکمل ہونے میں سات سال لگے اور اسے دو حصوں میں فلمایا گیا تھا، ملک میں مردانگی، مذہب اور فرقہ وارانہ تشدد کا جائزہ لیتی ہے۔

پٹوردھن نے یوٹیوب کے اس اقدام پر فیس بک پر سخت ردِعمل دیا۔ انہوں نے لکھا، ”ایک بار پھر یوٹیوب کی سینسرشپ! ”فادر، سن اینڈ ہولی وار“ میری ۱۹۹۵ء کی فلم ہے جسے یو/اے (U/A) سینسر سرٹیفکیٹ اور دو قومی ایوارڈز ملے تھے، اور ہندوستان کی سپریم کورٹ نے دوردرشن کو عوامی مفاد میں اسے پرائم ٹائم پر دکھانے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اب ۳۰ سال بعد یوٹیوب نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ بہت زیادہ پرتشدد ہے۔“ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دستاویزی فلم مذہبی جنونیوں اور سیاست دانوں کی وجہ سے ہونے والے تشدد کو ریکارڈ کرتی ہے۔ یہ ڈاکیومنٹری تشدد کو بے نقاب کرتی ہے، اس کی تائید نہیں کرتی۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوتواوادیوں کی وجہ سے سانگلی میں مسلم خاندان علاقہ چھوڑنے پر مجبور

پٹوردھن کے آفیشل چینل سے ہٹائے جانے کے باوجود، یہ فلم Alukuchi Malukuchi نامی یوٹیوب چینل پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینسرشپ کی لڑائیوں کی ایک طویل تاریخ رکھنے والی فلم

”فادر، سن اینڈ ہولی وار“ نے ۱۹۹۵ء میں ریلیز ہونے کے بعد اسی سال دو نیشنل فلم ایوارڈز، بہترین تحقیقاتی دستاویزی فلم اور سماجی مسائل پر بہترین فلم، حاصل کئے تھے اور ۱۹۹۶ء میں بمبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں انٹرنیشنل جیوری پرائز حاصل کیا تھا۔ اس فلم کو نشر کرنے سے دوردرشن کے انکار کے بعد پٹوردھن نے اس انکار کو چیلنج کیا تھا۔ بمبئی ہائی کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا اور بالاآخر سپریم کورٹ نے اسے نشر کرنے کا حکم جاری کیا۔

یہ بھی پڑھئے: سڑک کی توسیع کےنام پر جے پور میں مسجد شہید کردی گئی

واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب یوٹیوب نے پٹوردھن کی کسی دستاویزی فلم کو نشانہ بنایا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں، ویڈیو پلیٹ فارم نے ان کی ۱۹۹۲ء کی دستاویزی فلم ”رام کے نام“ (Ram Ke Naam) پر عمر کی حد کی پابندی (age restriction) لگا دی تھی۔ اس ڈاکیومنٹری میں بابری مسجد کو شہید کرنے کیلئے ہندو دائیں بازو کی تحریک کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ فلم کے پاس سی بی ایف سی (CBFC) کا ’یو‘ (U) سرٹیفکیٹ ہے، اس نے نیشنل ایوارڈ جیتا ہے اور ۱۹۹۶ء میں ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اسے رات ۹ بجے دوردرشن پر نشر کیا گیا تھا۔ پٹوردھن نے اس وقت بیان دیا تھا کہ ”یوٹیوب دوبارہ اسی روش پر ہے اور ان ہندوتوا غنڈوں کی خواہشات پوری کر رہا ہے جو تمام سیکولر مواد کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK