مہاراشٹر کے ضلع سانگلی کے گاؤں ارالا میں تقریباً ۲۰؍ مسلم خاندانوں نے ہجومی حملوں اور مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیموں اور بعض دیہاتیوں کی جانب سے ہراسانی کے بعد اپنے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 12:13 PM IST | Sangli
مہاراشٹر کے ضلع سانگلی کے گاؤں ارالا میں تقریباً ۲۰؍ مسلم خاندانوں نے ہجومی حملوں اور مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیموں اور بعض دیہاتیوں کی جانب سے ہراسانی کے بعد اپنے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مہاراشٹر کے ضلع سانگلی کے گاؤں ارالا میں تقریباً ۲۰؍ مسلم خاندانوں نے ہجومی حملوں اور مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیموں اور بعض دیہاتیوں کی جانب سے ہراسانی کے بعد اپنے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ صورتحال ایک معمولی تنازع کے بعد پیدا ہوئی۔
مقامی رہائشی عابد ڈانگے نے دی ہندوستان گزٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برادری نے اتوار کے روز گاؤں چھوڑ کر انصاف کے لیے مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ضلعی حکام کی مداخلت کے بعد احتجاج روک دیا گیا اور انہیں اپنے مطالبات تحریری طور پر جمع کروانے کو کہا گیا۔ ان کا اصل منصوبہ بامبے ہائی کورٹ کے کولہاپور بینچ کے سامنے احتجاج کرنا تھا۔عابد ڈانگے نے کہاکہ ’’ہم لوگوں سے حمایت کی اپیل کرتے ہیں۔ ہمیں مضبوط تحفظ کی ضرورت ہے۔ کل ہمارے گاؤں میں ایک پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے جو ممکنہ طور پر فساد بھڑکانے کی سازش ہو سکتا ہے۔ ہماری جانوں کو خطرہ ہے۔‘‘ ان کے مطابق حملوں میں ملوث افراد آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا’’یہ سلسلہ گزشتہ دو سے تین سال سے جاری ہے۔ وہ مختلف بہانوں سے مسلم خاندانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘‘
باضابطہ شکایت میں حملے اور پولیس جانبداری کے الزامات
۲۹؍مئی ۲۰۲۶ء کو حکام کے پاس جمع کرائی گئی ایک باضابطہ شکایت میں۲۸؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ایک مسلم خاندان پر منظم حملے، پولیس کی مبینہ جانبدارانہ کارروائی، اور ملزمان کے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دھمکی آمیز جشن منانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ شکایت زخمی مدعی صدام شوکت ڈانگے نے کوکرود پولیس اسٹیشن میں جمع کرائی، جس میں ۳۰؍ سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ شکایت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے ذریعے تفتیش، متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی سخت دفعات، بشمول دفعہ 109 (قتل کی کوشش) اور 103(2) (قتل)، شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
۲۹؍مئی کو درج ایف آئی آر میں بی این ایس کی دفعات 118(2)، 118(1)، 115(2)، 351(2)، 324(4)، 189(2)، 191(2)، 191(3)، اور 190 شامل کی گئی ہیں۔ نامزد ملزمین میں کیدار پرگاؤکر، روہت پیٹکر، اوکار پاٹل، پرتھمیش پاٹل، ساحل بندو پاٹل، کرن، سریش گھوڈول، اونکار جھٹاو، وشال بھاشتے، پرتیک بھدوگلے، پردیپ گرو، سمیت پاٹل، رشیکیش بھونسلے، اجے اشوک، اور اویناش اشوک شامل ہیں۔
شکایت کے مطابق تشدد کا آغاز شوکت ڈانگے کی مٹن کی دکان پر باورچی خانے کے برتنوں کے تنازع سے ہوا، لیکن بعد میں مقامی افراد نے مبینہ طور پر ایک ہجوم جمع کر کے صورتحال کو سنگین بنا دیا۔شکایت میں کہا گیا ہے’’کیدار پرگاؤکر نے جے شری رام کے نعرے لگائے اور کہا آج ہم ان لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے، جس کے بعد ہجوم میری دکان کی طرف بڑھا۔‘‘مزید کہا گیا کہ’’روہت پیٹکر نے نعرہ لگایا، انہیں مارو، پاکستانیوں کو ختم کر دو اور پورا ہجوم لاٹھیوں، پتھروں اور تیز دھار ہتھیاروں کے ساتھ ہماری طرف دوڑ پڑا۔‘‘ مدعی نے الزام لگایا کہ کیدار پرگاؤکر نے ان پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا۔ شکایت کے مطابق’’اس نے ایک چاپڑ اٹھائی اور کہا، آج میں تمہاری آخری نماز پڑھوا دوں گا۔ اس نے میری گردن پر وار کرنے کی کوشش کی۔ خوف کے باعث میں نے ہاتھ سے وار روکا جس سے مجھے شدید چوٹ آئی۔‘‘
پولیس کے رویے پر تنقید
شکایت میں ۲۰۲۳ء سے متعلق تین سابقہ واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں انہی افراد پر مسلم مخالف تقاریر اور دھمکی آمیز سرگرمیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ شکایت میں حملے کے دوران اور اس کے بعد پولیس کے رویے پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔ مدعی کے مطابق انہوں نے شام ساڑھے ۶؍ بجے پولیس بیٹ افسر کرجنکر کو فون کیا، لیکن پولیس گاڑی ۱۰؍ بجے پہنچی۔ ان کے مطابق ان کے بھائی عابد ڈانگے اور بھابھی نیلوفر ڈانگے نے بھی ۱۱۲؍پر کال کی، لیکن پولیس نے مبینہ طور پر کارروائی میں تاخیر کی۔
شکایت کے مطابق پولیس اسٹیشن میں بیان ریکارڈ کروانے کے دوران بھی رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ مدعی کا کہنا ہےکہ ’’جب میں رات تقریباً ڈیڑھ بجے اپنا بیان دے رہا تھا تو اے ایس آئی کالیداس گاواڈے بار بار مجھے روکتے رہے اور کہتے رہے’’ وہی بولو جو میں کہتا ہوں، زیادہ ہوشیاری نہ دکھاؤ، کسی کا نام بلاوجہ مت لو۔‘‘
مدعی نے مزید الزام لگایا کہ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر راہل اتیگرے نے چوٹوں کی سنگینی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق’’جب میں نے بتایا کہ کیدار پرگاؤکر نے میرے بھائی پر چاپڑ سے حملہ کیا تو انہوں نے اسے بیان میں درج کرنے سے انکار کر دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سڑک کی توسیع کےنام پر جے پور میں مسجد شہید کردی گئی
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ضلعی پولیس سربراہ تشار دوشی نے فون پر مداخلت کی۔ مدعی کے مطابق’’تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد دوشی نے فوراً اے پی آئی اتیگرے کو فون کیا اور پوچھا’’حملہ جان لیوا ہے، چار اعصاب کٹ چکے ہیں، دفعہ ۱۰۹؍ کیوں نہیں لگائی گئی؟ اس کے باوجود اتیگرے نے دفعہ ۱۰۹؍ شامل کرنے میں تین سے چار دن لگا دیے، اور وہ بھی اس وقت جب اسلام پور کے آدھار اسپتال سے شدید چوٹ کا میڈیکل سرٹیفکیٹ موصول ہوا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:شلپا شیٹی اپنی اداکاری اور فٹنیس کیلئے شہرت رکھتی ہیں
ضمانت کے بعد مبینہ دھمکیاں اور گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ
شکایت کے مطابق ملزمین نے ضمانت حاصل کرنے کے بعد ۲۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو جشن مناتے ہوئے دھمکی آمیز سرگرمیاں انجام دیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’’تمام ملزمین نے ارالا گاؤں کے دروازے سے امبابائی چوک تک پٹاخے پھوڑے، ڈی جے بجایا اور `اٹھاؤ ڈنڈے، بھگاؤ ...، جے شری رام جیسے نعرے لگائے تاکہ مدعی پر دباؤ ڈالا جا سکے۔‘‘ شکایت میں کہا گیا ہے کہ مسلم خاندان اپنا آبائی گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس شکایت کی نقول بامبے ہائی کورٹ اور کولہاپور سرکٹ بینچ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔