Updated: April 11, 2026, 2:58 PM IST
| New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ لیگو طرز کے ویڈیوز پر یو ٹیوب نے پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ ویڈیوز مبینہ طور پر ایک ایسے گروپ کی جانب سے بنائی گئی تھیں جن پر ایران نواز بیانیہ پھیلانے کا الزام ہے۔ ویڈیوز کے وائرل ہونے اور لاکھوں ویوز حاصل کرنے کے بعد پلیٹ فارم نے انہیں ہٹا دیا۔ متعلقہ چینل نے اس اقدام پر اعتراض اٹھایا، جبکہ یہ مواد دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اب بھی دستیاب ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے متعلق مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ لیگو طرز کے ویڈیوز پر یوٹیوب نے پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد اس اقدام پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیوز ایک ایسے گروپ کی جانب سے تیار کئے گئے تھے، جن پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک مخصوص سیاسی بیانیے کو فروغ دے رہے تھے۔ ان ویڈیوز میں ٹرمپ کے حوالے سے طنزیہ مواد اور ایک ریپ گانے کے ذریعے مختلف دعوے پیش کیے گئے، جس کے بعد یہ کلپس تیزی سے وائرل ہو گئے اور لاکھوں ویوز حاصل کر لیے۔
متعلقہ چینل Explosive Media نے اس پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے ایکس پر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ’’ہمارا یوٹیوب چینل ایک بار پھر ہٹا دیا گیا ہے، اور اس کی وجہ پرتشدد مواد بتائی جا رہی ہے، جبکہ ہمارے ویڈیوز محض لیگو طرز کے اینیمیشن پر مبنی ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنے بیان میں اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق یہ ویڈیوز کسی بھی طرح تشدد پر مبنی نہیں تھے۔ اگرچہ یوٹیوب پر یہ مواد ہٹا دیا گیا ہے، تاہم یہ ویڈیوز دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اب بھی گردش کر رہے ہیں، جہاں صارفین کی جانب سے ان پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران آبنائے ہرمز سے فیس وصولی فوراً بند کرے: ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ گوگل اور اوریکل جیسی بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کے ذریعے امریکی حکومت کی معاونت کر رہی ہیں۔ ایران نے اس تناظر میں ان کمپنیوں کے دفاتر اور ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی، تاہم متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عالمی تنازعات کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد کو معلوماتی یا سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ اس سے قبل ۲۰۲۲ء میں روس اور یوکرین کے تنازع کے دوران بھی اے آئی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرتے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ٹرمپ کے بیانات پر سی این این کا فیکٹ چیک، متعدد دعوے غلط قرار دیئے
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے مواد کو بعض اوقات ’’AI slop‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جو ایسی ڈجیٹل تخلیقات کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جو تیزی سے تیار کی جاتی ہیں اور آن لائن پھیلائی جاتی ہیں، تاہم ان کی درستگی یا مقصد پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ایکسپلوزیو میڈیا نے ایرانی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی ویڈیوز ایک خاص بیانیے کو تقویت دیتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد کی نگرانی، اظہارِ رائے کی آزادی اور ڈجیٹل بیانیے کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے، جہاں مختلف فریق اس معاملے کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔