Updated: June 27, 2026, 10:14 PM IST
| London
فوربس نے ۲۰۲۶ء کے سب سے زیادہ کمانے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں پہلی بار ٹاپ ۵۰؍ تخلیق کاروں کی مجموعی آمدنی ایک ارب ڈالر کی حد عبور کر گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان ۵۰؍ کریئیٹرز نے مجموعی طور پر ۰۲ء۱؍ ارب ڈالر کمائے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۲۰؍ فیصد زیادہ ہیں۔ یوٹیوب اسٹار مسٹر بیسٹ ۳۰۰؍ ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہے، جبکہ ہندنژاد امریکی دھر مین ۶۵؍ ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
مشہور یوٹیوبر مسٹر بیسٹ۔۔ تصویر: آئی این این
کانٹینٹ کریئیشن کو کبھی ایک محدود اور نسبتاً غیر منافع بخش شعبہ سمجھا جاتا تھا، تاہم اب یہ مکمل طور پر ایک بڑی تفریحی صنعت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ فوربس کی جانب سے جاری کی گئی ۲۰۲۶ء کے سب سے زیادہ کمانے والے کریئیٹرز کی تازہ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے بڑے سوشل میڈیا تخلیق کار نہ صرف اربوں افراد تک رسائی رکھتے ہیں بلکہ ان کی مجموعی آمدنی بھی نئی بلندیاں چھو رہی ہے۔ فوربس نے بتایا کہ اپنی پانچ سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا کے ۵۰؍ بااثر ترین کانٹینٹ کریئیٹرز کی مجموعی آمدنی ۰۲ء۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے ۸۵۳؍ ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً ۲۰؍ فیصد زیادہ ہے، جبکہ ۲۰۲۲ء میں جاری ہونے والی پہلی فہرست کے ۵۷۰؍ ملین ڈالر کے مقابلے میں یہ تقریباً ۸۰؍ فیصد اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خام تیل کی قیمت ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کریئیٹر اکنامی اب روایتی فلمی صنعت کو بھی سخت مقابلہ دے رہی ہے۔ کم بجٹ میں بننے والی متعدد فلموں اورڈجیٹل پروڈکشنز نے باکس آفس پر غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہڈجیٹل پلیٹ فارمز اب تفریحی صنعت کے مرکزی دھارے کا حصہ بن چکے ہیں۔ فوربس کے مطابق، ٹاپ ۱۰؍ کریئیٹرز میں شامل کئی شخصیات نے ٹیلی ویژن، فلم سازی اور نئی ڈجیٹل پروڈکشنز میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ روایتی اسٹوڈیوز اور سوشل میڈیا کے امتزاج پر بات کرتے ہوئے ڈریم ورکس کے شریک بانی اور والٹ ڈزنی اسٹوڈیوز کے سابق چیئرمین جیفری کیٹزنبرگ نے کہا کہ ’’یہ اکیسویں صدی کا اسٹوڈیو ہے۔‘‘ انہوں نے ہندوستانی نژاد تخلیق کار دھر مین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے بہترین روایتی کہانی سنانے کے ہر پہلو کو لیا اور اسے ایک نئے پلیٹ فارم پر نئے سامعین کے لیے ازسرِنو پیش کیا۔‘‘
فہرست میں یوٹیوب اسٹار مسٹر بیسٹ ایک مرتبہ پھر پہلے نمبر پر رہے، جنہوں نے ۳۰۰؍ ملین ڈالر کی تخمینی آمدنی حاصل کی۔ فوربس کے مطابق، ان کا کاروباری نیٹ ورک اب صرف یوٹیوب تک محدود نہیں بلکہ میڈیا، خوراک، تجزیاتی پلیٹ فارمز، لائسنسنگ اور دیگر متعدد شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئس لینڈ میں پہلے ہندوستانی آم کے فروغ کے پروگرام کا انعقاد
ہندوستانی نژاد امریکی تخلیق کار دھر مین ۶۵؍ ملین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کا اسٹوڈیو ہر ہفتے تقریباً ۳۰۰؍ ملین ویوز حاصل کرتا ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں افراد ان کے مواد کو دیکھتے ہیں۔ دھر مین نے فوربس سے گفتگو میں کہا کہ ’’روایتی اسٹوڈیوز پہلے مواد بناتے ہیں اور پھر امید کرتے ہیں کہ ناظرین آئیں گے، جبکہ ہم پہلے اپنے ناظرین کو سنتے ہیں اور پھر ان کی پسند کے مطابق مواد تیار کرتے ہیں۔‘‘
فہرست میں اسٹیون بارٹلیٹ ۵۲؍ ملین ڈالر کے ساتھ تیسرے، مارکی پلائر ۳۸؍ ملین ڈالر کے ساتھ چوتھے اور لنک رہیٹ ۳۷؍ ملین ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔ سابق صحافی کوڈی سانچیز ۳۱؍ ملین ڈالر کی کمائی کے ساتھ چھٹے نمبر رہے۔ آئی شو اسپیڈ اور مارک روبر نے ۳۰۔۳۰؍ ملین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ بالترتیب ساتواں اور آٹھواں مقام حاصل کیا۔ ڈروسکی ۲۰؍ ملین ڈالر کے ساتھ نویںنمبر پر جبکہ چارلی ڈی امیلیو نے ۱۸؍ ملین ڈالر کے ساتھ دسواں مقام حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں بہتری کی رپورٹ
فوربس کا کہنا ہے کہ کریئیٹر اکنامی اب صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ فلم، ٹیلی ویژن، برانڈنگ، تعلیم، کاروبار اورڈجیٹل انٹرٹینمنٹ سمیت متعدد شعبوں میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے بڑے کریئیٹرز اب مکمل میڈیا کمپنیوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور ان کی رسائی روایتی تفریحی اداروں کے برابر یا بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔