دادر میںکئے جانے والے احتجاج میںمظاہرین نےوزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف نعرے بازی کی اور استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کا احتحاج۔ تصویر:آئی این این
نیٹ اور ’سی بی ایس ای‘ کے امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور گھپلوں کے خلاف منگل کو یوتھ کانگریس کی جانب سے دادر میں جارحانہ انداز میں ’یووا آکروش مورچہ‘ نکالا گیا اور اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین کے زیر اہتمام اس مارچ کی قیادت یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب نے کی۔
دادر میں چیتیا بھومی سے شیواجی پارک میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے تک نکالے جانے والے اس آکروش مورچہ کو پولیس نے روک دیا اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اس مورچہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر عارف نسیم خان، ممبئی کانگریس کے سابق صدر بھائی جگتاپ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری سچن ساونت سمیت سیکڑوں طلبہ، نوجوانوں اور کانگریس ورکروںنے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب نے مرکزی حکومت پر شدیدی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں ہے اور امتحانی نظام پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ پیپر لیک ہونے کے پے در پے واقعات کی وجہ سے طلبہ کی محنت اور والدین کی امیدیں خاک میں مل رہی ہیں۔