Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس یوکرین جنگ: زیلنسکی کی پوتن کو جنگ بندی کیلئے براہِ راست ملاقات کی پیشکش

Updated: June 05, 2026, 4:05 PM IST | Kyiv

یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں صدر زیلنسکی نے صدر پوتن کو کھلے خط میں مکمل جنگ بندی اور براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ دونوں جانب سے بیانات میں مذاکرات کی آمادگی کے ساتھ زمینی صورتحال اور عسکری پیش رفت پر سخت موقف بھی سامنے آیا ہے۔

Zelensky and putin. Photo: INN.
زیلنسکی اور پوتن۔ تصویر: آئی این این

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے نام ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کیلئے مکمل جنگ بندی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور دونوں لیڈروں کے درمیان براہِ راست ملاقات کی پیشکش بھی کی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر زیلنسکی نے اپنے خط میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے دونوں ممالک کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس تنازع کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے لکھا کہ بہت لڑائی ہو چکی، اب فیصلہ پوتن کو کرنا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: برازیل کے صدر نے امریکی وزیر خارجہ کو لاطینی امریکہ کا مہلک دشمن قرار دیا

زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین مذاکراتی عمل کے دوران مکمل جنگ بندی کیلئے تیار ہے تاہم، اگر روس جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتا تو یوکرینی افواج اپنے دفاع کیلئے لڑائی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ خط میں یوکرینی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روسی فوج رواں سال مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے پر مکمل قبضہ حاصل نہیں کر سکے گی، جبکہ یوکرین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے پرعزم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا بحران، اسپتالوں پر۲ء۲؍ ارب روپے کے واجبات

دوسری جانب کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ زیلنسکی کا خط ابھی تک صدر پوتن کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، تاہم روسی قیادت یوکرین کے ساتھ رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہی۔ ترجمان کے مطابق اگر زیلنسکی چاہیں تو وہ ماسکو آ کر صدر پوتن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں روسی افواج نے یوکرین کے مزید علاقوں پر پیش قدمی کی ہے اور رپورٹس کے مطابق تقریباً ۲۴۴۰؍ مربع کلومیٹر اضافی علاقہ اپنے کنٹرول میں لیا ہے۔ ادھر سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس کا لوہانسک پر مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے جبکہ ڈونباس کے مزید علاقوں پر بھی قبضہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں یوکرین مزید علاقہ کھو سکتا ہے۔ روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ فوجی تعاون جاری رہے گا اور روس یوکرین کے ساتھ تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ مذاکرات میں روس کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK