Updated: June 05, 2026, 12:00 PM IST
| Islamabad
راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں کو ادویات کی فراہمی کیلئے اربوں روپے کے واجبات اور کم فنڈنگ کے باعث شدید مالی بحران کا سامنا ہے، جس سے مریضوں کو مفت علاج اور ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ادویات ساز کمپنیوں کے اعتماد میں کمی اور بڑھتے ہوئے قرضوں نے صوبے کے پبلک ہیلتھ سسٹم کی مجموعی کارکردگی اور پائیداری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
پاکستان کے ایک اسپتال کا منظر۔ تصویر: ایکس
پاکستان کے پبلک ہیلتھ کیئر نظام کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں پر ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے تقریباً۲ء۲؍ ارب روپے کے بقایا جات واجب الادا ہیں، جس سے مریضوں کیلئے مفت ادویات کی دستیابی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، پنجاب حکومت کی ایمرجنسی وارڈز، آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹس اور اسپتال وارڈز میں مفت ادویات فراہم کرنے کی کوششوں کے باوجود، حالیہ مالی تقسیم ضروریات سے کہیں کم رہی ہے۔ مالی سال کے آخری ہفتوں کے دوران حکام نے ادویات کیلئے صرف ۱۳۰؍ملین روپے جاری کئے۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ ماحولیات: اے آئی کا پانی کا استعمال خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ: یو این
اس تقسیم کے تحت بینظیر بھٹو جنرل اسپتال کو۵۰؍ ملین روپے، ہولی فیملی اسپتال کو۶۰؍ ملین روپے، جبکہ راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال کو۲۰؍ ملین روپے دیئےگئے۔ تاہم، اخراجات کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کے باوجود اسپتال شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ہولی فیملی اسپتال پر تقریباً۹۰۰۰؍ ملین روپے کے واجبات ہیں، جبکہ بینظیر بھٹو جنرل اسپتال کی ذمہ داریاں تقریباً۸۵۰؍ ملین روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال تقریباً۲۷۰؍ ملین روپے کا مقروض ہے۔ بڑھتے ہوئے قرضوں نے ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جن میں سے کئی اب ادویات، طبی گیسیں اور استعمال شدہ طبی سامان ادھار دینے سے ہچکچا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بغیر خوراک اور آکسیجن کے ایورسٹ پر سات دن، لاپتا نیپالی شیرپا گائیڈ زندہ مل گیا
مالی سال۲۰۲۵ء۔ ۲۶ء کی فنڈنگ
مالی سال۲۰۲۵ء۔ ۲۶ء کی فنڈنگ کی تقسیم نے بھی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ ہولی فیملی اسپتال نے ادویات اور ضروری سامان کیلئے ۱ء۵؍ ارب روپے کی درخواست کی تھی، مگر اسے صرف۴۰۰؍ ملین روپے ملے۔ بینظیر بھٹو جنرل اسپتال کو بھی ۱ء۵؍ ارب روپے کی درخواست کے مقابلے میں ۳۸۰؍ ملین روپے دیئے گئے، جبکہ راولپنڈی ٹیچنگ اسپتال کو۸۰۰؍ ملین روپے کی درخواست کے باوجود۲۳۰؍ ملین روپے ملے۔ یہ تینوں اسپتال روزانہ۱۰؍ ہزار سے زائد مریضوں کو ایمرجنسی اور او پی ڈی خدمات فراہم کرتے ہیں اور مجموعی طور پر۲؍ ہزار ۵۸۰؍ بستر رکھتے ہیں۔ تاہم، صحت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فیرو جزائر: ۷۰۰؍ سے زائد وہیل اور ڈولفن ذبح، خون آلود شکار، عالمی سطح پر تنقید
یہ اسپتال اسلام آباد، پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر، پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان (PoGB) اور راولپنڈی ڈویژن کے دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ صحت کے نظام میں ضروریات اور حکومتی فنڈنگ کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ملک کے عوامی صحت کے ڈھانچے کی پائیداری کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دے رہا ہے۔