• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زیلنسکی، پوتن سے مذاکرات کیلئے تیار، یوکرین کا ۲۰؍ نکاتی امن منصوبہ زیر غور

Updated: January 29, 2026, 4:19 PM IST | Kyiv

یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سائبیحا نے کہا ہے کہ صدر زیلنسکی روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے تقریباً چار سالہ جنگ کے خاتمے کیلئے سنگین مسائل پر براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ ابو ظہبی میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو فریقین نے تعمیری قرار دیا ہے۔

Volodymyr Zelenskyy. Picture: INN
ولادیمیر زیلنسکی۔ تصویر: آئی این این

یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سائبیحا نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر زیلنسکی روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے سنگین اور بنیادی مسائل پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ یہ خبر یوکرین کے آن لائن اخبار یورپین پراودا نے منگل کو شائع کی۔ سائبیحا کے مطابق یوکرین گزشتہ سال نومبر سے ایک ۲۰؍ نکاتی امن منصوبے پر معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مقصد تنازع سے جڑے تمام اہم اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں متنازع علاقوں اور زیپوریزیا جوہری پاور پلانٹ جیسے حساس امور شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’انہی سنگین مسائل کو حل کرنے کیلئے صدر زیلنسکی صدر پوتن کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کا گروک چیٹ بوٹ بچوں، نوعمروں کیلئے غیرمحفوظ: تحقیق

سائبیحا نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں کوئی متوازی راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ ان کے مطابق مذاکراتی گروپ پہلے ہی موجود ہیں، جن میں وزارت خارجہ کے نمائندے شامل ہیں، اضافی راستے بنانا غیر ضروری اور غلط ہے۔ ابو ظہبی میں روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت پر تبصرہ کرتے ہوئے سائبیحا نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات کے باعث تنازع کے خاتمے کی سمت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے مذاکرات کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے تصدیق کی کہ ابو ظہبی میں دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں بات چیت نہایت مرکوز رہی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ الگ سے دو طرفہ مذاکرات بھی ہوئے، جن میں دونوں ممالک کے فوجی نمائندے شامل تھے، جہاں جنگ بندی اور جارحانہ کارروائیوں کو روکنے پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ سائبیحا نے ۲۰؍  نکاتی امن منصوبے کے بارے میں کہا کہ اس پر دو طرفہ معاہدہ کیا جائے گا، جس پر امریکہ اور یوکرین دستخط کریں گے، جبکہ روس کے ساتھ امریکہ علاحدہ طور پر دستخط کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’فی الحال یہی وہ ڈھانچہ ہے جس پر بات ہو رہی ہے، تاہم مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔‘‘ دوسری جانب، پیر کو صدر زیلنسکی نے اپنے شام کے خطاب میں کہا کہ روسی اور یوکرینی وفود کے درمیان ایک اور ملاقات کیلئے ابتدائی بات چیت جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یکم فروری کو دوبارہ ملاقات ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان: گزشتہ ۳؍ ماہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کی۶؍ ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں

اسی دن کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے ابو ظہبی میں منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ ۲۳؍ اور ۲۴؍ جنوری کو ابو ظہبی میں امریکہ کی شرکت کے ساتھ روس اور یوکرین کے درمیان دو روزہ مشاورتی مذاکرات ہوئے تھے، جنہیں کیف اور واشنگٹن نے ’’تعمیری‘‘ قرار دیا۔ پیسکوف نے بھی کہا کہ رابطے تعمیری انداز میں شروع ہوئے ہیں، تاہم ’’ابھی بہت سا کام باقی ہے۔‘‘ ادھر سوئزرلینڈ کے شہر داؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ روس یوکرین امن مذاکرات میں ’’کافی پیش رفت‘‘ ہو چکی ہے اور بات چیت اب صرف ایک آخری مسئلے تک محدود رہ گئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK