• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان: گزشتہ ۳؍ ماہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کی۶؍ ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں

Updated: January 29, 2026, 2:17 PM IST | New York

لبنان نے اقوام متحدہ سے کہا کہ گزشتہ ۳؍ ماہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کی ۶؍ ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں، ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جارحانہ کارروائیاں روکنے اور لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا پر مجبور کرے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

لبنان نے منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل نے تین ماہ کے عرصے میں لبنانی خودمختاری کی۶۲۵۶؍ خلاف ورزیاں کی ہیں۔عرب نیوز کے حوالے سے ملنے والے خط میں، لبنان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب احمد عرفات نے کہا کہ نومبر۲۰۲۵ء سے جنوری۲۰۲۶ء کے درمیان ہونے والی ان خلاف ورزیوں میں۱۵۴۲؍ زمینی،۳۹۱۱؍ فضائی اور۸۰۳؍ بحری خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر ایسی خلاف ورزیاں کرتا رہتا ہے۔عرفات نے اپنے خط میں کہا کہ یہ کارروائیاں لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہیں اور سلامتی کونسل کی قرارداد۱۷۰۱؍ کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی براہ راست خلاف ورزی ہیں، جس نے۲۰۰۶ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اگر المالکی دوبارہ وزیر اعظم بنے تو امریکہ عراق کی مزید مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ

انہوں نے مزید کہا کہ یہ۲۶؍ نومبر۲۰۲۴ء کی جنگ بندی کی قرارداد کی بھی خلاف ورزی ہے، جس نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تازہ ترین جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔دریں اثناء لبنان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو قرارداد ۱۷۰۱؍ کو مکمل طور پر نافذ کرنے، اپنی جارحانہ کارروائیاں بند کرنے، لبنانی علاقوں کے ان پانچ حصوں کو خالی کرنے پر مجبور کرے جن پر وہ قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے، اور لبنان کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں سے مکمل طور پر باہر نکلنے پر مجبور کرے۔بعد ازاں عرفات نے کونسل پر زور دیا کہ وہ لبنانی خودمختاری کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکے، لبنانی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائے، ان کے الفاظ میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے خطرات کو روکے، اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ لبنانی مسلح افواج کو نشانہ بنانا بند کرے، جنہوں نے خطے میں سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے قربانیاںدی ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے بیروت کی قرارداد۱۷۰۱؍ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی برقرار رکھنے کے عزم کی دوبارہ تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھئے: یوکرین جنگ: ۱۲؍ لاکھ روسی اور ۶؍ لاکھ یوکرینی فوجی ہلاک، زخمی یا لاپتہ : تحقیق

اپنے خط میں، عرفات نےاس بات کا بھی ذکر کیا کہ۲۰؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو، لبنان کی کونسل آف منسٹرز نے لبنانی مسلح افواج کو پورے ملک میں تعینات کرنے کے لیے پانچ مرحلے پر مشتمل منصوبہ اپنایا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ملک میں تمام اسلحہ صرف ریاستی کنٹرول میں ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا مقصد لبنان کی اپنے پورے علاقے پر خودمختاری بحال کرنا، یہ یقینی بنانا کہ اسلحہ صرف لبنانی مسلح افواج کے ہاتھوں میں رہے، اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ واضح رہے کہ لبنان نے اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے،۱۹۴۹ء کے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد،۲۰۰۲ء کے بیروت عرب سمٹ میں اپنائے گئے امن اقدامات پر عمل، اور لبنان کے حقوق کا احترام کرنے کی شدید ضرورت پر بھی زور دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK