Updated: January 08, 2026, 11:14 AM IST
|
Saeed Ahmed Khan
| Mumbai
اس دفعہ ان وارڈوں میں کم امید وار مقابلے میں ہیں اس لئے مضبوط پوزیشن رکھنے والے امیدواروں کی راہ آسان دکھائی دے رہی ہے۔ وارڈ نمبر ۴۸؍ میں ۱۶؍ امیدواروں میں ۱۱؍مسلم شامل ہیں۔ اس سے ووٹ تقسیم ہونے کا اندیشہ ہے۔۱۸؍ آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کررہے ہیںجبکہ مجموعی طور پر۹۰؍امیدوار میدان میں ہیں۔
ملاڈ مالونی اسمبلی حلقہ ۱۶۲؍ کے ۸؍میونسپل کارپوریشن وارڈوں میں اس دفعہ امیدوار کم ہیں اس لئے ۸؍ میں سے بیشتر وارڈ میں قسمت آزمائی کرنے والے کئی مضبوط امیدوارہیں۔ الگ الگ وارڈ میں امیدواروں کی تعداد کچھ اس طرح ہے۔ وارڈ نمبر ۳۲؍ میں ۴؍ وارڈ نمبر۳۳؍ میں۵ ؍، وارڈ نمبر ۳۴؍میں ۱۰؍، وارڈ نمبر ۳۵؍ میں ۱۱؍، وارڈ نمبر۴۶؍میں ۲؍، وارڈ نمبر ۴۷؍میں۹؍، وارڈ نمبر ۴۸؍میں ۱۶؍ اور وارڈ نمبر ۴۹؍میں محض ۳؍ امیدوار ہیں۔ اس طرح ملاڈ مغرب اسمبلی حلقہ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب اتنے کم امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ اس کے برخلاف تمام وارڈوں میں کل مسلم امیدواروں کی تعداد ۱۹؍ ہے اور اس میں سب زیادہ ۱۱؍ مسلم امیدوار وارڈ نمبر ۴۸؍ میںہیں۔
اس صورتحال سے ووٹ تقسیم ہونے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔اسی طرح اگر ان وارڈوں میں آزاد امیدواروں کی تعداد پیش نظر رکھی جائے تو وارڈ نمبر ۳۳؍ میں ایک ، وارڈ نمبر ۳۴؍ میں دو ، وارڈ نمبر۳۵؍ میں ۵؍، وارڈ نمبر ۴۷؍ میں ۴؍اور وارڈ نمبر ۴۸؍میں ۶؍آزاد امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔وارڈ نمبر۴۸؍میں ہی سب سے زیادہ ۱۶؍امیدوار ہیں جن میں۱۱؍مسلم ہیں۔
رائے دہندگان کیا کہتے ہیں؟
الگ الگ وارڈ میں رائے دہندگان سے بات چیت کرنے پر رائے دہندگان نے جو کچھ کہا وہ اس طرح ہے: وارڈ نمبر۳۳؍ میں رہنے والے عبدالعلیم انصاری نے کہا کہ ’’معلوم ہوا ہے کہ ہمارے وارڈ میں ۵؍ امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ یہاں جو امیدوار مضبوط ہوگا اسے زیادہ محنت نہیں کرنی ہوگی ، آسانی سے وہ جیت جائے گا۔ دوسرے ووٹ بھی تقسیم ہونے کا اندیشہ کم ہے۔‘‘وارڈ نمبر ۴۸؍ میں رہنے والے عبدالرب انصاری نے بتایا کہ ’’لوگ کہہ رہے ہیں کہ سب سے زیادہ امیدوار مالونی حلقے میں اسی وارڈ میں ہیں اور اسی میں سب سے زیادہ مسلم امیدوار بھی ہیں اور مسلم ووٹروں کی بھی اکثریت ہے۔ اس لئے یہ خطرہ ہے کہ کہیں کئی مسلم امیدواروں کے آپس میں ٹکرانے سے کوئی اور بازی نہ مار لے ۔ اس لئے کہ ووٹ تو آخر مسلمانوں کے ہی بٹیں گے ۔ مگرسبھی امیدوار ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔‘‘
وارڈ نمبر۴۶؍ میں رہنے والے رام جی کنوجیا نے بتایا کہ ’’ہمارے وارڈ میں تو صرف بی جے پی اور ایم این ایس کے درمیان مقابلہ ہے اور محض ۲؍ امیدوار ہیں۔ ایسے میں نہ تو کوئی مسئلہ ہوگا نہ ہی ووٹ بٹیں گے۔ ‘‘ وارڈ نمبر ۴۹؍ میں محض تین امیدوار ہیں۔ یہاں رہنے والے عبدالغفور انصاری نے بتایا کہ امیدوار کم ہونے سے تینوں کی جانب سے زوردار مہم چلائی جارہی ہے، دیکھنا ہوگا کون بازی مارتا ہے اور عوام کو اپنے پالے میں کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔‘‘
وارڈ اور امیدواروں کے نام
وارڈ نمبر۳۲؍ میں سیرینا زیکو کینی ، گیتا کرن بھنڈاری، منالی اجیت بھنڈاری اور روپالی بی سنگھ۔وارڈ نمبر ۳۳: ساریکا سندیپ پارٹے، اجولا پرمود ویتی، قمر جہاں معین صدیقی، نوشین رفیق خلیفہ اور راجیہ شری جتیش مانجریکر۔وارڈ نمبر ۳۴: اَبراہم، کاشف رضا حیدر زیدی، جان ڈینس، وکاس دشپوتے، وجے سدھاکر مہاڈک، حیدر علی اسلم شیخ، جینیش شیش منی مشرا، عاقب شیخ، اکبر محمد علی شیخ اور ارباز اسلم شیخ۔ وارڈ نمبر ۳۵: وینوگوپال، دیپک داول مورے، ورما یوگیش راج بہادر، پراگ سریش چندر شاہ، کپل دیو کہار، اے ایس کمار، آتش سمپت کامبلے، جیراج کرن والا، ابھیشیک بخشی، آیوش دلیپ سنگھ ، گنیش باڑو سوناؤنے۔ وارڈ نمبر ۴۶: یوگیتا سنیل کولی اور دہلیکر اسنہیتا سندیش۔ وارڈ نمبر ۴۷: وینو گوپال، گنیش شنکر گرو، شیٹی بھکتی ناتھن آروکی سوامی، تیجیندر ستنام سنگھ تیوانا، پرمیندر سنگھ بھامرا، رمیش کمار، راجا ارومگم کونڈیر، فاطمہ انیس شیخ اور بھوپیش ستیہ وان سوناؤنے۔ وارڈ نمبر ۴۸: المیلکر سلمیٰ سلیم، سریل پیٹر ڈیسوزا، لارزی ورگیز، ایڈوکیٹ گنیش شندے، محسن قاسم شیخ، رفیق الیاس شیخ، قریشی نصیرالدین علاء الدین ، رضوانہ خان، شیخ محمد اسماعیل، ایڈوکیٹ شیخ سعید، نریندر رمن لال پرمار، پریتی باگڑے، ارباز اسلم شیخ، محمد عرفان شیخ، شیخ یاسین عبد المجید اور سید ذوالفقار عالم۔وارڈ نمبر۴۹: کولی سنگیتا چندرکانت، سمترا درشن مہاترے اور سنگیتا سنجے ستار۔