• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھواڑہ میں ۸؍ ماہ کے دوران۶۵۳؍ کسانوں نے خودکشی کی

Updated: September 28, 2026, 12:46 PM IST | ZA Khan | Hingoli

بیڑ میں سب سے زیادہ ۱۴۹؍ واقعات ہوئے۔اورنگ آباد دوسرے نمبر پر۔ گزشتہ سال شدید بارش اور امسال خشک سالی سے کسان مالی بحران کا شکار۔ خودکشی کے۲۲۶؍ معاملات میں اہل خانہ اب بھی امداد کے فیصلے کے منتظر۔

From January to August, an average of three farmers took the extreme step each day. Photo: INN
جنوری سے اگست تک اوسطاً ہر روز ۳؍ کسانوں نے انتہائی قدم اٹھایا۔ تصویر: آئی این این

مراٹھواڑہ میں گزشتہ سال شدید بارش اور امسال خشک سالی جیسی صورتحال کے باعث کسان   مالی بحران کا شکارہوگئے ہیں۔ اس مسلسل بحران کے دوران جنوری سے اگست تک کے ۸؍ ماہ میں ۶۵۳؍ کسانوں نے خودکشی کی یعنی اوسطاً ہر روز تقریباً ۳؍ کسانوں نے اپنی زندگی ختم کی۔ ان میں بعض کسانوں نے پھانسی لگا کر جبکہ بعض نے زہریلی چیز کھا کر انتہائی قدم اٹھایا۔گزشتہ سال مراٹھواڑہ میں تقریباً ۴۹؍ لاکھ ہیکٹر اراضی پر بوائی کی گئی تھی۔ جالنہ اوراورنگ آباداضلاع میں مکئی اور کپاس کی فصلوں کا رقبہ زیادہ ہے جبکہ لاتور، بیڑ، عثمان آباد، ہنگولی، پر بھنی اور ناندیڑ علاقوں میں سویابین، کپاس، تور، اڑد، مونگ اور جوار جیسی فصلیں زیادہ کاشت کی جاتی ہیں۔کسانوں کی مالی منصوبہ بندی بڑی حد تک خریف کے موسم میں ہونے والی فصلوں کی پیداوار پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی لئے خریف کا موسم کسانوں کیلئے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

مراٹھواڑہ میں جنوری۲۰۲۶ء سے اگست ۲۰۲۶ء تک ۸؍ ماہ کے دوران۶۵۳؍ کسانوں نے خودکشی کی۔ ان میں سب سے زیادہ ۱۴۹؍ خودکشی کے واقعات بیڑ ضلع میں درج کئے گئے۔ اس کے بعد چھترپتی سنبھاجی نگر (اورنگ آباد) ضلع خودکشی کے واقعات کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہا۔

یہ بھی پڑھئے: چھتیس گڑھ کی طوفانی بارش سے گڈچرولی میں سیلابی صورتحال

  کسانوں کی خودکشی کے اعداد و شمار

کسانوں کی خودکشی کے واقعات اور ان میں امداد کیلئے اہل قرار دیئے گئے خاندانوں کی تعداد اس طرح ہے۔ بیڑمیں خودکشی کے ۱۴۹؍ واقعات   جن میں۷۹؍ خاندان امداد کیلئے اہل قرار دیئے گئے۔اورنگ آباد ۱۳۸؍خودکشی، ۷۵؍ خاندان امداد کے اہل۔جالنہ۶۱؍خودکشی، ۳۰؍خاندان امداد کے اہل۔پر بھنی۴۵؍ خودکشی، ۱۵؍خاندان امداد کے اہل۔ہنگولی ۴۴؍خودکشی،۲۴؍ خاندان امداد کے اہل۔ناندیڑ۸۲؍خودکشی،۵۲؍ خاندان امداد کے اہل۔ عثمان آباد ۸۸؍ خودکشی،۶۰؍ خاندان امداد کے اہل۔لاتور۴۶؍ خودکشی، ۲۸؍ خاندان امداد کے اہل۔

۲۲۶؍معاملات امداد کے فیصلے کے منتظر

گزشتہ سال کی شدید بارش اور رواں سال کی خشک سالی کے باعث خریف کی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ فصلوں کا نقصان، سر پر قرض، بچوں کی تعلیم، بیٹیوں کی شادی اور خاندان کے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی فکر نے کسانوں کو شدید مالی دباؤ اور مایوسی میں مبتلا کردیا۔اسی مالی پریشانی کے نتیجے میں مراٹھواڑہ میں۸؍ ماہ کے دوران ۶۵۳؍ کسانوں نے خودکشی کی۔دوسری جانب کسانوں کی خودکشی کے۲۲۶؍ معاملات اب بھی امداد کے فیصلے  کیلئے زیر التوا ہیں۔ان میں اورنگ آبادکے۵۶، جالنہ کے۲۴، بیڑ کے ۵۴، پر بھنی کے۲۵، ہنگولی کے ۶، ناندیڑ کے ۲۸، دھاراشیو کے۲۷؍ اور لاتور کے۶؍ معاملات شامل ہیں۔

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر دیپک ڈونےکر نے کسانوں میں خودکشی کے واقعات روکنے کیلئے کاؤنسلنگ کو ضروری قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے اور انہیں ضروری رہنمائی فراہم کرنے کیلئے محکمۂ صحت کو گاؤں کی سطح پر کاؤنسلنگ کیمپ منعقد کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور محدود اراضی رکھنے والے کسانوں کیلئے ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور اسٹریس مینجمنٹ کے حوالے سے ضروری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ان کے مطابق اس طرح مراٹھواڑہ میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK