Updated: June 24, 2026, 10:02 AM IST
|
Agency
| Mumbai
ہندی فلموں کی تاریخ میں کچھ اداکار ایسے گزرے ہیں جنہوں نے نہ تو سپر اسٹار کا شور مچایا اور نہ ہی شہرت کے لیے غیر ضروری ہنگامہ آرائی کاسہارا لیا، لیکن اپنی شخصیت، شائستگی اور فن کے بل پر ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔
اداکار رحمان۔ تصویر:آئی این این
ہندی فلموں کی تاریخ میں کچھ اداکار ایسے گزرے ہیں جنہوں نے نہ تو سپر اسٹار کا شور مچایا اور نہ ہی شہرت کے لیے غیر ضروری ہنگامہ آرائی کاسہارا لیا، لیکن اپنی شخصیت، شائستگی اور فن کے بل پر ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔ ایسے ہی فنکاروں میں ایک نمایاں نام رحمان کاہے۔ ان کا اصل نام سید رحمان خان تھا۔ وہ ۱۹۴۰ءاور ۱۹۵۰ءکی دہائی کے ان اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نےہندی فلموں میں وقار، نفاست اور تہذیب کی علامت سمجھے جانے والے کرداروں کو نئی پہچان دی۔
رحمان ۲۳؍جون ۱۹۲۱ءکو برطانوی ہندوستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز پشتون خاندان سے تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ مختلف سرکاری اور انتظامی شعبوں میں کام کیا، لیکن قسمت انہیں فلمی دنیا کی طرف لے آئی۔ ان کی شخصیت میں ایک فطری رعب، گہری آواز اور شاہانہ انداز تھا، جو بعد میں ان کی شناخت بن گیا۔
رحمان نے ۱۹۴۰ءکی دہائی کے اواخر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتداہی سے ان کی شخصیت عام ہیروسے مختلف محسوس ہوتی تھی۔ وہ روایتی رومانوی ہیرو بھی بنے، مگر ان کی اصل طاقت سنجیدہ اور باوقار کردار تھے۔ جلد ہی وہ فلم سازوں کی پہلی پسند بن گئے۔ان کی ابتدائی کامیاب فلموں میں پیار کی جیت، بڑی بہن اور پردیس شامل ہیں۔ ان فلموں نے انہیں صفِ اول کے اداکاروں میں لا کھڑا کیا۔
رحمان کے فلمی کیریئر کا سب سے اہم باب عظیم فلم ساز گرو دت کےساتھ وابستگی ہے۔ گرو دت کی فلموں میں رحمان نے ایسے کردار ادا کیے جو آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔۱۹۵۷ءمیںریلیز ہونے والی شہرۂ آفاق فلم پیاسامیں رحمان نے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے شخص کا کردار ادا کیا۔ اگرچہ فلم کے مرکزی ہیرو گرو دت تھے، لیکن رحمان کی موجودگی نے فلم کے کئی مناظر کو یادگار بنا دیا۔اس کے بعد چودھویں کا چاندمیں ان کی اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا۔ فلم کی رومانوی فضا اور لکھنوی تہذیب کے پس منظر میں رحمان کی شائستہ شخصیت خوب جچی۔پھر ۱۹۶۲ءمیں آنے والی صاحب بی بی اور غلام نےانہیں فلمی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امرکر دیا۔ اس فلم میں ان کا کردار اگرچہ مرکزی نہیں تھا، لیکن ان کی سنجیدہ اداکاری نے فلم کے مجموعی معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔۱۹۶۰ءکی دہائی کے وسط تک ہندی سنیما میں نئی نسل کے اداکاروںکا دور شروع ہو گیا۔ راجیش کھنہ، دھرمیندر اور بعد میں امیتابھ بچن جیسے ستاروں کے ابھرنے کے بعد رحمان نے بھی خود کو بدلتے وقت کے مطابق ڈھال لیا۔انہوں نے مرکزی ہیرو کے بجائے کردار اداکار کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔ اس دور میں بھی ان کی کئی فلمیں کامیاب رہیں۔ وقت، دل نے پھر یاد کیاجیسی فلموں میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔
رحمان کی زندگی کے آخری سال آسان نہیں تھے۔ مسلسل تمباکو نوشی اور صحت کے مسائل نے انہیں کمزور کر دیا۔ بعد کے برسوں میں انہیںدل اور گلے کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی مشہور آواز متاثر ہو گئی، جو ان کی شخصیت کا اہم حصہ تھی۔ ۵؍ نومبر۱۹۸۴ءکو ممبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے ساتھ ہندی سنیما کا ایک باوقار اور نفیس عہدختم ہوگیا۔