اے آر رحمان نے فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ سے متعلق ایک ایسے پوسٹ پر ہنستے ہوئے ردِعمل دیا جس میں فلم پر ’’اینٹی نیشنل‘‘ بیانیہ پیش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 4:02 PM IST | Mumbai
اے آر رحمان نے فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ سے متعلق ایک ایسے پوسٹ پر ہنستے ہوئے ردِعمل دیا جس میں فلم پر ’’اینٹی نیشنل‘‘ بیانیہ پیش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اے آر رحمان نے فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ سے متعلق ایک ایسے پوسٹ پر ہنستے ہوئے ردِعمل دیا جس میں فلم پر ’’اینٹی نیشنل‘‘ بیانیہ پیش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ناقدین اور ناظرین کی جانب سے فلم کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور اس کی جذباتی کہانی کو سراہا جا رہا ہے۔ نصیرالدین شاہ ، دلجیت دوسانجھ اور ویدانگ رائنا اور شروری کی اداکاری سے مزین یہ فلم تقسیمِ ہند کے پس منظر میں ہجرت، صدمے اور محبت کی کہانی بیان کرتی ہے۔
کیا ’’میں واپس آؤں گا‘‘ اینٹی نیشنل ہے؟
رحمان نے ایک ایسے پوسٹ پر ردِعمل دیا جس میں طنزیہ انداز میں کہا گیا تھا کہ فلم نے پاکستان کو دہشت گردوں اور خفیہ ایجنٹوں کے بغیر دکھانے کی ’جرأت‘ کی ہے۔ یہ پوسٹ ان بالی ووڈ فلموں اور شوز پر بھی طنز تھا جن میں پڑوسی ملک کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار نے اس پوسٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا اور اس کے ساتھ ہنستے ہوئے ایموجی کا استعمال کیا۔ پوسٹ میں لکھا تھا’’اینٹی نیشنل؟ فلم نے پاکستان کو دہشت گردوں اور خفیہ ایجنٹوں کے بغیر دکھانے کی جرأت کی۔‘‘
پوسٹ کے کیپشن میں طنزیہ انداز میں ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو یہ توقع کر رہا تھا کہ فلم میں کوئی ہندوستانی جاسوس پاکستان سے بدلہ لیتا دکھائی دے گا، مگر فلم دہشت گردی یا جاسوسی کے بجائے انسانی جذبات اور رشتوں پر مبنی نکلی۔ کیپشن میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ وہ شخص فلم کی جذباتی کہانی سے متاثر ہوا، لیکن وہ اس بات پر حیران تھا کہ پاکستان میں عام انسان بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ دوسری فلموں میں اسے صرف دہشت گردوں اور جاسوسوں کے طور پر ہی دکھایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گروک اے آئی کا استعمال ایران پر حملوں میں کیا گیا
رحمان نے اس بارے میں کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن ان کے ردِعمل کو بہت سے لوگوں نے ان کے مؤقف کا اشارہ سمجھا۔ کچھ صارفین نے اس پر ہنسی کا اظہار کیا جبکہ دوسروں نے الزام لگایا کہ وہ’’دُھرندھر ‘‘ جیسی فلموں پر بالواسطہ تنقید کر رہے ہیں۔ بعد ازاں رحمان کی انسٹاگرام اسٹوری کا اسکرین شاٹ ریڈٹ پر شیئر کیا گیا، جہاں اس پر بحث شروع ہو گئی۔ ایک صارف نے لکھا’’ان جیسے لوگ ’’دُھرندھر‘‘ پر طنز کرتے رہتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ کوئی ان کی مبینہ طور پر بہتر فلم نہیں دیکھ رہا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ڈی آر کانگو نے پرتگال کو ڈرا پر روک کر ایک پوائنٹ حاصل کیا
’’میں واپس آؤں گا‘‘ کس بارے میں ہے؟
ہدایت کارامتیازعلی کی یہ فلم جذبات، یادوں، محبت اور جدائی کے موضوعات پر مبنی ہے۔ یہ انسانوں کی بنائی ہوئی سرحدوں، دنیا بھر کے مہاجرین کے بحران اور ۱۹۴۷ء کی تقسیمِ ہند کے درد کو اجاگر کرتی ہے۔ فلم کی کہانی ۹۵؍ سالہ ایشَر سنگھ گریوال کے گرد گھومتی ہے، جن کا کردارنصیرالدین شاہ نے ادا کیا ہے۔ وہ بسترِ علالت پر ہیں اور اب چندی گڑھ میں رہتے ہیں۔ ان کی آخری خواہش سرگودہ واپس جانا ہے، لیکن انسانوں کی قائم کردہ سرحد اس راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان کے جذبات اور زبان کو سمجھنے والا واحد شخص ان کا برطانیہ سے واپس آنے والا پوتا ہے، جس کا کردار دلجیت دوسانجھ نے نبھایا ہے۔