Updated: July 24, 2026, 6:06 PM IST
| New Delhi
اڈانی انرجی سالیوشنز لمیٹڈ(اے ای ایس ایل) نے جمعہ کو اعلان کیا کہ کمپنی کو آندھرا پردیش میں ۸۵۰۰؍ کروڑ روپے مالیت کا ایک بین الریاستی (Inter-State) بجلی کی ترسیل کا پروجیکٹ ملا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے وشاکھاپٹنم (ویزاگ) علاقے میں قائم کیے جانے والے گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا منصوبوں کو بجلی فراہم کی جائے گی۔
اڈانی۔ تصویر:آئی این این
اڈانی انرجی سالیوشنز لمیٹڈ(اے ای ایس ایل) نے جمعہ کو اعلان کیا کہ کمپنی کو آندھرا پردیش میں ۸۵۰۰؍ کروڑ روپے مالیت کا ایک بین الریاستی (Inter-State) بجلی کی ترسیل کا پروجیکٹ ملا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے وشاکھاپٹنم (ویزاگ) علاقے میں قائم کیے جانے والے گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا منصوبوں کو بجلی فراہم کی جائے گی، جن کی مجموعی طلب تقریباً ۴۵۰۰؍ میگاواٹ ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان سیریز جیتنے کے قریب، زمبابوے کے لیے کرو یا مرو کی صورتحالس
کمپنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت نے یہ منصوبہ ٹیرف بیسڈ کمپیٹیٹو بڈنگ (ٹی بی سی بی) (TBCB) فریم ورک کے تحت الاٹ کیا ہے، جس میں اڈانی انرجی سالیوشنز سب سے کم اور مسابقتی بولی دینے والی کمپنی کے طور پر سامنے آئی۔ اس منصوبے کو ۳۰؍ ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ اڈانی انرجی سالیوشنز کے سی ای او کندرپ پٹیل نے کہا’’ویزاگ ٹرانسمیشن پروجیکٹ ہندوستان کی نئی نسل کی صنعتی ترقی کے لیے توانائی کا مضبوط ڈھانچہ تیار کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اس سے آندھرا پردیش میں گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا کی پیداواری صلاحیت کو فروغ ملے گا، جبکہ پینڈورتھی-ویزاگ علاقے میں تیزی سے بڑھتے ڈجیٹل انفراسٹرکچر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بجلی کے گرڈ کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت (اے آئی ) ، ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز ، زیرِ سمندر کنیکٹیویٹی، لاجسٹکس، صاف توانائی اور صنعتی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے باعث ویزاگ تیزی سے ہندوستان کے نئے ڈجیٹل انفراسٹرکچر مراکز میں شامل ہو رہا ہے۔ کندرپ پٹیل کے مطابق’’جیسے جیسے ہندوستان صاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، اے ای ایس ایل مستقبل کی ضروریات کے مطابق مضبوط ٹرانسمیشن نیٹ ورک تیار کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جو پائیدار ترقی کو ممکن بنائیں گے۔
یہ منصوبہ پینڈورتھی-ویزاگ خطے میں بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو بھی پورا کرے گا، جہاں ڈیٹا سینٹرز اور ڈجیٹل انفراسٹرکچر میں تیزی سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کو ویزاگ پاور ٹرانسمیشن لمیٹڈ کے نام سے قائم خصوصی مقصدی کمپنی (SPV) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
کمپنی کے مطابق، اس منصوبے کے تحت۱۵۸۲؍ سرکٹ کلومیٹر (سی کے ایم ) نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور ۱۰۵۰۰؍ ایم وی اے (MVA) کی اضافی ٹرانسفارمیشن صلاحیت شامل کی جائے گی، جس کے بعد اے ای ایس ایل کا مجموعی ٹرانسمیشن نیٹ ورک ۲۹۵۳۱؍ سرکٹ کلومیٹر اور ٹرانسفارمیشن صلاحیت ۱۳۳۶۷۵؍ ایم وی اے تک پہنچ جائے گی۔ کمپنی اس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی نجی بجلی ترسیلی کمپنی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جانی ڈیپ کی ہالی ووڈ میں واپسی، ’’ایبینیزر‘‘ کا پہلا ٹریلر کامک کان ۲۰۲۶ء میں جاری
کمپنی نے کہا کہ ویزاگ خطے میں گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر، بجلی کی بلا تعطل فراہمی، گرڈ کے استحکام اور طویل مدتی صنعتی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اور زیادہ صلاحیت والے ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔