Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ کےبعد اب سی بی ایس ای کی خامیاں منظر عام پرآئیں

Updated: May 27, 2026, 10:45 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

ڈجیٹل مارکنگ کےنظام میں خامیاں، پارلیمانی کمیٹی نے وزارت تعلیم، سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن ، این ٹی اے اور وزارت صحت کے سینئر حکام کو طلب کیا۔

Activists Of Congress Student Organization NSUI Are Demanding The Resignation Of Education Minister Dharmendra Pradhan Across The Country.Photo:INN
کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے کارکن ملک بھر میں وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی مانگ کررہے ہیں- تصویر:آئی این این
نیٹ یوجی پیپر لیک کے بعد سی بی ایس ای بورڈ کے ذریعہ امتحانی پرچوں کی ڈیجیٹل جانچ میں خامیوں  اور اس پراپوزیشن کے سخت حملہ کے بعد پارلیمنٹ  کی ایک کمیٹی نے وزارت تعلیم، سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن ، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور وزارت صحت کے سینئر حکام کو اگلے ہفتے طلب کر لیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے امتحانات میںبے ضابطگیوں اور آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) میں گڑبڑی کے خدشات کاجائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔
معاملہ کیا ہے؟
سی بی ایس ای کے نئے’’آن اسکرین مارکنگ‘‘(او ایس ایم) نظام  پر تنازع اس وقت شروع ہوا جب ۲۰۲۶ء کے  بورڈ نتائج کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ اور والدین نے کم نمبروں، غلط ٹوٹلنگ اور جوابی کاپیوں کی جانچ میں تکنیکی خرابیوں کی شکایت کی۔ اس نظام کے تحت طلبہ کی جوابی کاپیاں اسکین کرکے کمپیوٹر اسکرین پر چیک کی جاتی ہیں۔ کئی طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی اسکین شدہ کاپیاں دھندلی تھیں یا بعض سوالات صحیح طریقے سے نظر نہیں آ رہے تھے، جس کی وجہ سے نمبر متاثر ہوئے۔ سوشل میڈیا پر خاص طور پر سائنس مضامین میں سخت مارکنگ کے الزامات بھی سامنے آئے۔
طلبہ کی جوابی کاپیاں بدل گئیں 
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب کچھ طلبہ نے شکایت کی  کہ ان کی جوابی کاپیاں بدل گئی تھیں یا نمبر صحیح اپڈیٹ نہیں ہوئے۔ ایک نوجوان ریسرچر نے آن لائن مارکنگ پورٹل میں سیکوریٹی خامیوں کا بھی دعویٰ کیا۔ تاہم سی بی ایس ای نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف جانچ کا طریقہ ڈیجیٹل ہوا ہے، مارکنگ پالیسی نہیں بدلی۔ بورڈ کے مطابق اس نظام سے شفافیت بڑھتی ہے اور انسانی غلطیاں کم ہوتی ہیں  جبکہ جن طلبہ کو اعتراض ہے وہ ری ایویلیوایشن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
 
 
معاملہ نے شدت کیوں اختیار کی
  اس معاملہ نے اس وقت شدت اختیار کرلی جب  ویدانت شری واستو نے نامی ایک طالب علم نے مارکنگ میں خامیوںکی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے  دوبارہ جانچ کیلئے جب اپنے پرچے کی نقل مانگی تو سی بی ایس ای کی  جانب سے فراہم کئے گئے فزکس کے پرچے کی  جو نقل فراہم کی گئی وہ اس کا پرچہ ہی نہیں تھا۔ ویدانت نےیہ معاملہ سوشل میڈیا پر پیش کردیا جس کے بعد اسے راہل گاندھی کی بھی حمایت ملی  جبکہ سوشل میڈیا پر موجود آئی ٹی سیل نےا سے نشانہ بنایا اور پاکستانی  تک قرار دیا۔ بہرحال    حکومت کا دفاع کرنےوالوں کو اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب سی بی ایس ای نے مذکورہ طالب علم سے رابطہ کیا، غلطی کا اعتراف کیا اور اس کی صحیح کاپی اسے فراہم کی۔  ویدانت شری واستو  جن کا تعلق دہلی سے ہے، نے ٹرول کرنے والوں کو جواب دیا کہ وہ پاکستانی نہیں ہیں۔  ویدانت  کے معاملے نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔ 
 
 
راجیہ سبھا کی کمیٹی حرکت میں آئی
راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کے نوٹس کے مطابق ۳۱؍ رکنی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تعلیم، خواتین واطفال، امور نوجواں و کھیل نے مذکورہ وزارت اور ایجنسی کو طلب کیا۔ کمیٹی یکم جون کو محکمہ اعلیٰ تعلیم، وزارت صحت اوراین ٹی اے کے سینئر حکام کے ساتھ نیٹ اور این ٹی اے سے متعلق مسائل کے ساتھ قلم اور کاغذ کے ذریعہ امتحان کے مقابلہ میں کمپیوٹر پر مبنی امتحان کا جائزہ لے گی۔ ۲؍جون کوکمیٹی اسکولی تعلیم کے مسائل پر توجہ مرکوز کرے گی اور اسکولی تعلیم کے سکریٹری سنجے کمار اور سی بی ایس ای کے چیئرمین راہل سنگھ سے ملاقات کرے گی تاکہ بارہویں کے بورڈ امتحانات میں آن اسکرین مارکنگ کے استعمال اور درجہ نہم اور آٹھ میں سہ لسانی فارمولے کے نفاذ پر تشویش کا جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK