Updated: August 24, 2026, 1:00 PM IST
| New Delhi
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے نے نوئیڈا میں احتجاج کرنے والے کارکنوں کی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر قانون کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کارکنوں کو احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا، ان میں سے بیشتر نے ضمانت ملنے سے قبل اوسطاً ۵۳؍ دن جیل میں گزارے، جبکہ اب طلبہ کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ سی جے پی نے مرکزی حکومت سے احتجاج ختم کرنے کے وقت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
ابھیجیت دِپکے۔ تصویر: آئی این این
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے نے پیر کو نوئیڈا میں احتجاج کرنے والے کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی سے متعلق ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ’’اپنے حقوق کے لیے لڑنے والے لوگوں کے خلاف قانون کا غلط استعمال بند کرنا چاہیے۔‘‘ دپکے نے ایک اخبار کی اس رپورٹ کو دوبارہ پوسٹ کیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ رواں سال اپریل میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے تقریباً ۲۰۰؍ نجی کمپنی کے کارکنوں نے عدالت کی جانب سے ضمانت دئیے جانے اور پولیس سے سوالات کیے جانے سے قبل اوسطاً ۵۳؍ دن جیل میں گزارے۔
یہ بھی پڑھئے: اُردو سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر پھر ایکسائز افسر اور اب ڈی ایس پی تک کا شاندار سفر
دپکے نے دی انڈین ایکسپریس کی اس تحقیق کو بھی دوبارہ پوسٹ کیا، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اگرچہ احتجاج کے بعد اتر پردیش حکومت نے اجرتوں میں اضافہ کیا، لیکن کارکن بدستور جیل میں قید رہے۔ دپکے نے سوال کیا، ’’پاکستان سے تعلق کا کیا ہوا؟‘‘ عدالت نے بیشتر کارکنوں کو ضمانت پر رہا کردیا اور کہا کہ پولیس مخصوص شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس نے محض احتجاج میں موجودگی کو بنیاد بنایا۔ حراست میں لیے گئے دو کارکنوں پر سخت گیر نیشنل سیکوریٹی ایکٹ (NSA) بھی عائد کیا گیا ہے، جس کے تحت طویل عرصے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ دپکے نے لکھا، ’’حکومت کو اپنے حقوق کے لیے لڑنے والے لوگوں کے خلاف قانون کا غلط استعمال بند کرنا چاہیے۔ نوئیڈا کے کارکنوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اب طلبہ کے ساتھ بھی وہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب اسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘
کاکروچ جنتا پارٹی پیر کو اپنی قومی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے والی ہے، جس میں ۲۵؍ جولائی کو ملک گیر احتجاج ختم کرنے کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس دباؤ گروپ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب تک ان یقین دہانیوں پر عمل درآمد کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی پربی جے پی کی تنقید، جواب طالبات نے دیا
۱۸؍ اگست کو سپریم کورٹ نے ملک بھر میں طلبہ اور مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز کی جامع فہرست طلب کی تھی۔ سی جے پی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے مرکز سے تین مرتبہ یہ فہرست فراہم کرنے کو کہا تاکہ وہ آئین کے آرٹیکل ۱۴۲؍ کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مقدمات ختم کرنے پر غور کر سکے۔ سی جے پی نے کہا، ’’عدالت کی جانب سے بار بار فہرست طلب کیے جانے کے باوجود مرکزی حکومت نے اسے فراہم کرنے کا عہد نہیں کیا۔‘‘ تنظیم نے کہا کہ عدالت میں سماعت کے فوراً بعد اس کے شریک کنوینر سوراو داس اور قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت بظاہر نوجوان نسل کے ساتھ ’’دھوکا‘‘ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سی جے پی نے مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران دی گئی یقین دہانیوں کی بنیاد پر اپنا احتجاج ختم کیا تھا۔