امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ امریکی عوام کی جیبوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں نے امریکی صارفین پر ۴۰؍ارب ڈالر سے زائد کا اضافی بوجھ ڈال دیا۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 10:07 AM IST | Washington
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ امریکی عوام کی جیبوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں نے امریکی صارفین پر ۴۰؍ارب ڈالر سے زائد کا اضافی بوجھ ڈال دیا۔
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکیوں نے اضافی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر۴۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کئے ہیں، جو اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو وہ فروری ۲۰۲۶ء میں ادا کر رہے تھے۔ جب امریکہ نے ایران پر حملوں میں اسرائیل کا ساتھ دیا تھا۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر ایرانی تھے۔ اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا اور مشرقِ وسطیٰ دوبارہ کھلی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ واٹسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز نے پیر کو اپنی تازہ رپورٹ میں کہا:۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ءکو شروع ہونے والی ایران جنگ کے اخراجات صرف میزائلوں، بموں، فوجی اہلکاروں اور اسلحے کی تعیناتی تک محدود نہیں، جن پر اب تک تقریباً ۲۹؍ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن کے اشارے کا انتظار، اسرائیل ایران پر حملے کیلئے تیار
رپورٹ میں مزید کہا گیا:’’گرمیوں کی سفری تعطیلات کے آغاز کے ساتھ، یہ رپورٹ، جو کلائمیٹ سولیوشن لیب کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، ایک اور بڑے نقصان کی نشاندہی کرتی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد صارفین پر اضافی ایندھن کے اخراجات، جو ۴۰؍ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، یعنی فی گھرانہ۳۰۰؍ ڈالر سے زیادہ۔ ‘‘رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے عالمی معیشت پر بڑے معاشی اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں ایندھن، خوراک اور دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ اس جنگ نے امریکی صارفین پر پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ ان رقوم کو متبادل منصوبوں پر خرچ کر سکتا تھا۔
۲۸؍فروری کے بعد اضافی ایندھن کے اخراجات اتنے ہیں کہ ان سے۲۰۲۴ء میں اعلان کردہ وفاقی ’’Bridge Investment Programme‘‘ مکمل طور پر فنڈ کیا جا سکتا تھا، جس کا مقصد ملک بھر کے ۱۰؍ ہزار ۲۰۰؍سے زائد پلوں کی مرمت، بحالی اور جدید کاری ہے۔ محققین کے مطابق اضافی ایندھن اخراجات امریکہ کے ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم کی مکمل تجدید کے تخمینے (۳۱ء۵؍رب ڈالر) سے بھی زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافی اخراجات وفاقی الیکٹرک گاڑی چارجنگ اور الیکٹریفکیشن پروگراموں کیلئےمختص ۱۸ء۹؍ارب ڈالر سے دو گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ مطالعے میں کہا گیا:’’اوسطاً ہر امریکی گھرانے نے۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کے بعد پٹرول اور ڈیزل پر۳۰۰؍ ڈالر سے زیادہ اضافی ادا کئے ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں بڑھتی قیمتیں امریکی عوام کی روزمرہ زندگی کو مزید مہنگا بنا رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں جھٹکے معیشت بھر میں گھریلو اخراجات پر ایک غیر اعلانیہ ٹیکس کی طرح کام کرتے ہیں، جس کی لاگت بڑے وفاقی پروگراموں کے برابر ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کیبل بچھانے کی فیس وصول کرے گا
جنگ سے توانائی بحران
امریکہ نے ۲۸؍فروری کو ایران پر حملوں میں اسرائیل کا ساتھ دیا۔ ان حملوں میں ایران کے طویل عرصے سے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی قیادت اور سیکڑوں شہری مارے گئے۔ تاہم، ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر دیا، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ ایران نے امریکی اتحادی خلیجی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کئے، جس سے ان ممالک کی استحکام کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا۔ امریکی-اسرائیلی جنگ میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً۶؍ ہزار ۵۰۰؍ سے۹؍ ہزار ۱۰۰؍افراد کے ہلاک ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ سب سے زیادہ جانی نقصان ایران میں ہوا، جہاں کم از کم۳؍ ہزار۴۶۸؍ افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی ٹیم کا اہم اجلاس
ایران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز سے جہاز رانی محدود کر دی، جس سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور تہران کو اہم سفارتی برتری حاصل ہوئی، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی نافذ کی۔ امن کے زمانے میں اس راستے سے دنیا کے تقریباً۲۰؍ فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جبکہ کھاد سمیت دیگر اہم اجناس بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ فروری کے آخر سے تیل کی قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل یا اس سے اوپر برقرار ہیں۔ پاکستان کی ثالثی کے بعد۸؍ اپریل کو جنگ بندی شروع ہوئی۔ اسلام آباد میں مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بعد میں جنگ بندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی۔ جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ جاری رہا۔
یہ بھی پڑھئے: خلیجی ممالک کی اپیل کے بعد ایران پر حملہ روک دیا گیا: ٹرمپ
پیر کو ایران نے کہا کہ اس نے جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی نئی تجویز کا جواب دے دیا ہے، جبکہ ایرانی میڈیا نے امریکی مطالبات کو حد سے زیادہ قرار دیا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور خدشہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ دوبارہ کھلی جنگ میں دھکیل دیا جائے گا، جبکہ عالمی توانائی بحران بھی مزید طول پکڑ سکتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست جنگ کے باعث تیل کے بحران کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ اپریل کے آغاز میں عارضی جنگ بندی ہوئی، لیکن توانائی کے اخراجات اب بھی بلند سطح پر ہیں اور ان کے اثرات صارفین کی قیمتوں تک پہنچ رہے ہیں۔
پٹرول، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں ایسے وقت میں بڑھ رہی ہیں جب امریکی عوام پہلے ہی مہنگی زندگی سے پریشان ہیں۔ ۳؍ نومبر کو ہونے والے انتخابات میں، جن میں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا رپبلکن پارٹی امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے یا نہیں، مہنگائی اور افورڈیبلٹی (affordability) اہم انتخابی مسئلہ بن سکتے ہیں۔