Updated: January 18, 2026, 5:02 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن نے بڑھتی عمر، سیکھنے کی صلاحیت میں کمی اور ماضی کے بعض فیصلوں پر اپنے بلاگ میں کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ نہ صرف جسم بلکہ سیکھنے کا جذبہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اور یہی احساس سب سے بڑا پچھتاوا بن جاتا ہے۔
امیتابھ بچن۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کے عظیم اداکار امیتابھ بچن نے اپنے حالیہ بلاگ میں بڑھاپے کے تلخ مگر سچے تجربات کو بے حد سادگی اور دیانت داری کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ۸۲؍ سالہ اداکار نے اعتراف کیا کہ عمر کے ساتھ انسان کے اندر نئی چیزیں سیکھنے کی خواہش آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے، اور یہی احساس وقت گزرنے کے بعد پچھتاوے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ امیتابھ بچن کے مطابق، اصل افسوس ان باتوں کا نہیں جو انسان نے سیکھ لیں، بلکہ ان چیزوں کا ہوتا ہے جو وقت پر سیکھنی چاہئے تھیں مگر نظرانداز ہو گئیں۔ انہوں نے لکھا کہ آج جو مہارتیں ضروری سمجھی جاتی ہیں، وہ یا تو ماضی میں موجود ہی نہیں تھیں یا اس وقت ان کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عمر کے اس مرحلے پر پہنچ کر سیکھنے کا عمل نہ صرف مشکل بلکہ ذہنی طور پر تھکا دینے والا محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غیر تخلیقی لوگوں کی طاقت بڑھ گئی ہے: بالی ووڈ میں کم کام ملنے پر اے آر رحمان
اداکار نے موجودہ دور کی تیز رفتار ٹیکنالوجی اور بدلتے نظام پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ انسان جب کسی ایک نظام کو سمجھنے لگتا ہے تو وہ نظام پہلے ہی نیا روپ اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ اس رفتار نے سیکھنے کے عمل کو ایک مسلسل دوڑ میں بدل دیا ہے، جہاں ہر شخص پیچھے رہ جانے کے خوف میں مبتلا ہے۔ امیتابھ بچن نے واضح کیا کہ ہر کام خود کرنے کی ضد دانشمندی نہیں۔ ان کے مطابق، عمر اور تجربہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کہاں خود سیکھنا ضروری ہے اور کہاں ماہرین پر اعتماد کرنا زیادہ بہتر فیصلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بنیادی سمجھ بوجھ کے ساتھ ماہر افراد کی خدمات حاصل کرنا ہی کامیابی کا عملی راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ’اکیس‘ میں دھرمیندر کی کاسٹنگ پر سوال، مگر کردار نے سب کو خاموش کر دیا
اداکار کا ماننا ہے کہ زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان اپنی حدود کو پہچانے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور آنے والی نسلوں کو وہ سچ بتائے جو اکثر چھپا دیا جاتا ہے۔ ان کے یہ خیالات نہ صرف فلمی دنیا بلکہ عام زندگی میں بھی عمر، علم اور وقت کے رشتے کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔