Inquilab Logo Happiest Places to Work

انٹارکٹکا: ریکارڈ گرمی کی لہر، جون میں درجہ حرارت ۴ء۱۵؍ ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا

Updated: June 16, 2026, 2:58 PM IST | London

انٹارکٹکا کے جزیرہ نما علاقے میں شدید اور غیر معمولی گرمی کی لہر نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ۶؍ جون کو ارجنٹائنا کے ایسپرانزا ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت ۴ء۱۵؍ ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ ہے اور معمول سے تقریباً ۲۰؍ ڈگری زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلی، سمندری برف میں غیر معمولی کمی اور عالمی حدت کے بڑھتے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انٹارکٹکا، جو دنیا کا سرد ترین براعظم سمجھا جاتا ہے، ان دنوں غیر معمولی گرمی کی لہر کی زد میں ہے۔ سائنسدانوں نے ۶؍ جون کو جزیرہ نما انٹارکٹکا کے شمالی حصے میں واقع ارجنٹائنا کے ایسپرانزا بیس پر ۴ء۱۵؍ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جو جون کے مہینے کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ یہ درجہ حرارت ۱۹۹۸ء میں قائم ہونے والے ۳ء۱۳؍ ڈگری سیلسیس کے سابقہ ریکارڈ سے تقریباً دو ڈگری زیادہ ہے۔ یونیورسٹی آف گروننگن کے موسمیاتی ماہر راول کورڈیرو نے اس صورتحال کو انتہائی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سال کے اس وقت کے لیے معمول سے تقریباً ۲۰؍ ڈگری سیلسیس زیادہ ہے، جو ایک بہت بڑی موسمی بے ضابطگی ہے۔‘‘ ان کے مطابق انٹارکٹکا میں موسم سرما کے دوران اس نوعیت کی گرمی انتہائی تشویشناک ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں سندر پچائی کے خطاب کے دوران طلبہ کا فلسطینی پرچم اور کیفیہ کے ساتھ واک آؤٹ

رپورٹوں کے مطابق انٹارکٹک جزیرہ نما میں مسلسل تین ہفتوں تک درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے اوپر رہا۔ اس دوران شمال کی جانب سے آنے والی غیر معمولی گرم ہواؤں نے وسیع علاقے کو متاثر کیا۔ چلی کے ایک موسمیاتی اسٹیشن پر بھی درجہ حرارت تقریباً ۱۳؍ ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کئی دیگر تحقیقی مراکز میں بھی معمول سے کہیں زیادہ گرمی دیکھی گئی۔ کنگ جارج آئی لینڈ پر تعینات چلی کے گلیشیالوجسٹ لوئس میونوز نے بتایا کہ گرمی اس قدر شدید تھی کہ عام طور پر برف سے ڈھکے رہنے والے علاقے بھی پگھل گئے۔ ان کے مطابق اس موسم میں عموماً تقریباً ۲۰؍  سینٹی میٹر برف موجود ہوتی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں بارش اور بلند درجہ حرارت نے برفانی سطحوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کولنز گلیشیئر کی بلندی پر بھی برف پگھلنے کے واضح آثار دیکھے گئے، حالانکہ اس وقت گلیشیئر کو برف جمع کرنی چاہیے تھی۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرمی کی لہر ایسے وقت میں آئی ہے جب انٹارکٹکا کے مغربی ساحل کے قریب سمندری برف میں بھی غیر معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ سیٹیلائٹ مشاہدات کے مطابق بیلنگس ہاؤزن سمندر میں فرانس کے رقبے کے برابر تقریباً ۶؍  لاکھ ۵۰؍ ہزار مربع کلومیٹر سمندری برف غائب ہو چکی ہے، جو اس خطے کے ماحولیاتی نظام اور گلیشیئرز کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق سمندری برف کی کمی نہ صرف پینگوئن، سیل اور دیگر قطبی حیات کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ بڑے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ خاص طور پر مغربی انٹارکٹکا کے مشہور تھوائٹس گلیشیئر، جسے ’’ڈومس ڈے گلیشیئر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی برفانی ڈھال مستقبل قریب میں مزید کمزور ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سمندری سطح میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جی۷؍ اجلاس: مودی کے استقبال کیلئے میکرون نے بالی ووڈ انداز اپنایا

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس گرمی کی لہر میں قدرتی موسمی عوامل بھی شامل ہیں، تاہم انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت اس طرح کے واقعات کو زیادہ شدید اور بار بار ہونے والا بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق انٹارکٹکا میں بڑھتی ہوئی گرمی اور برف کے تیزی سے پگھلنے کے رجحانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب دنیا کے سب سے سرد خطوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK