Updated: October 26, 2026, 8:36 PM IST
| san Francissco
کمپنی نے مصنوعی ذہانت، سیری (Siri)، ویژن پرو (Vision Pro) اور ہارڈویئر انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں ملازمین کی تعداد کم کی ہے۔ ان تبدیلیوں میں انجینئرنگ پروگرام منیجرز اور تقریباً نصف درجن ڈائریکٹرز کے عہدے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں ۴۰۰؍سے زائد ملازمتوں میں کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایپل کمپنی۔ تصویر:آئی این این
دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل (Apple) میں نئے چیف ایگزیکٹیو افسر جان ٹرنس (John Ternus) کی قیادت میں تنظیمی تبدیلیوں اور ملازمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی نے مصنوعی ذہانت، سیری (Siri)، ویژن پرو (Vision Pro) اور ہارڈویئر انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں ملازمین کی تعداد کم کی ہے۔ ان تبدیلیوں میں انجینئرنگ پروگرام منیجرز اور تقریباً نصف درجن ڈائریکٹرز کے عہدے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں ۴۰۰؍سے زائد ملازمتوں میں کمی کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ایپل نے اب تک کمپنی بھر میں اتنی ملازمتیں ختم کرنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ فلم فیسٹیول :پانچ فلسطینی خواتین ہدایت کاروں کی فلمیں پیش کی جائیں گی
جان ٹرنس نے یکم ستمبر ۲۰۲۶ء کو ٹم کک کی جگہ ایپل کے چیف ایگزیکٹیو افسر کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ وہ اس سے پہلے طویل عرصے تک کمپنی کے ہارڈویئر انجینئرنگ شعبے کی قیادت کر چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ ایپل کو زیادہ تیز رفتار، مؤثر اور کم انتظامی پیچیدگیوں والی کمپنی بنانا چاہتے ہیں، تاکہ نئی مصنوعات کی تیاری اور پیش کش میں تیزی لائی جا سکے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، جان ٹرنس انتظامی ڈھانچے میں درمیانی سطح کے عہدوں کو کم کرنے اور انجینئرس کو اعلیٰ انتظامیہ کے قریب لانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو مختصر کرنا، مختلف ٹیموں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور مصنوعات کی تیاری میں تاخیر کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ایپل کی حالیہ ملازمتوں میں کمی کا ایک اہم حصہ سری، مصنوعی ذہانت اور ورچوئل رئیلٹی سے متعلق شعبوں میں سامنے آیا ہے۔ اگست ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، تقریباً ۲۰۰؍ ملازمین کی ملازمتیں متاثر ہوئیں، جن میں تقریباً ۱۰۰؍ افراد ویژن پرو سے متعلق شعبے اور تقریباً ۱۰۰؍ افراد سری اور اس سے وابستہ سافٹ ویئر ٹیموں سے تعلق رکھتے تھے۔ کیلیفورنیا میں جمع کرائی گئی ملازمتوں سے متعلق سرکاری اطلاع کے مطابق، کمپنی نے اپنے تین مقامات پر مجموعی طور پر ۱۴۷؍ ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان میں کپرتینو میں ایپل کے مرکزی دفتر کی ۷۹؍ اور سنی ویل کے دو دفاتر کی بالترتیب ۲۸؍ اور ۴۰؍ ملازمتیں شامل تھیں۔ ان ملازمتوں کے خاتمے کی تاریخیں ۱۹؍ اور ۲۰؍ اکتوبر مقرر کی گئی تھیں۔ متاثرہ عہدوں میں سافٹ ویئر انجینئرز، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین، کمپیوٹر وژن انجینئرز اور دیگر تکنیکی ملازمین شامل تھے۔
ہارڈویئر انجینئرنگ شعبے میں انجینئرنگ پروگرام منیجرز کے عہدوں پر بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ یہ منیجرز مختلف ٹیموں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے، مصنوعات کی تیاری کے مراحل کی نگرانی کرنے اور مقررہ وقت میں منصوبوں کی تکمیل یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ان عہدوں پر کام کرنے والے بعض ملازمین، جن میں تقریباً چھ ڈائریکٹرز بھی شامل بتائے گئے ہیں، کو کمپنی کے اندر دوسری ملازمت تلاش کرنے کے لیے چند ہفتوں کی مہلت دی گئی۔ جو ملازمین مقررہ مدت میں اپنے لیے کوئی مناسب عہدہ حاصل نہیں کر سکیں گے، ان کی ملازمت ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، ان تمام ملازمین کے کمپنی چھوڑنے کی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایل کلاسیکو میں ریئل میڈرڈ کی شاندار فتح، بارسلونا کو ۱۔۲؍گول سے شکست
ٹیکنالوجی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایپل بھی اپنی مصنوعات کی تیاری، سافٹ ویئر کی ترقی اور صارفین کو خدمات فراہم کرنے کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر توجہ دے رہی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایپل نے موسمِ گرما میں ایپل کیئر کے تقریباً ۵؍ہزار ملازمین کی جگہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کرنے کے منصوبے پر غور کیا تھا۔ تاہم، بعد کی اطلاعات کے مطابق یہ منصوبہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایپل نے ایپل کیئر کے ۵؍ہزار ملازمین کو ملازمت سے نکال دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس نوعیت کی بڑے پیمانے پر برطرفی کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
جان ٹرنس کی زیر قیادت ایپل کی حکمت عملی کا ایک اور اہم پہلو نئی مصنوعات کو زیادہ تیزی سے مارکیٹ میں پیش کرنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، کمپنی کے روایتی موسمِ بہار اور موسمِ خزاں کے اجراء کے نظام میں تبدیلی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ سال کے مختلف اوقات میں نئی مصنوعات متعارف کرائی جا سکیں۔ اس تبدیلی سے کمپنی کو اپنی مصنوعات پر زیادہ مسلسل توجہ حاصل کرنے اور نئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں حریف کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، مصنوعات کے اجراء کے نئے نظام سے متعلق یہ تجاویز زیرِ غور بتائی گئی ہیں؛ ایپل نے کسی حتمی نئے شیڈول کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔
ایپل کی ملازمتوں میں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری بڑھانے، اخراجات پر قابو پانے اور اپنے کاروباری ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایپل کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ انتظامی سطحوں کو کم کرتے ہوئے تحقیق، مصنوعات کے معیار اور نئی ٹیکنالوجی کی ترقی کو متاثر ہونے سے بچائے۔ فی الحال دستیاب اطلاعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جان ٹرنس کمپنی کو زیادہ مؤثر اور انجینئرنگ پر مرکوز بنانے کے لیے تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ تاہم، ملازمتوں میں کمی کی حتمی مجموعی تعداد، مستقبل میں مزید برطرفیوں کا امکان اور ان تبدیلیوں کے طویل مدتی نتائج کے بارے میں ابھی کوئی حتمی تصویر سامنے نہیں آئی ہے۔