Updated: April 01, 2026, 12:08 PM IST
| Mumbai
فلمساز روہت شیٹی اس وقت پولیس کی نظر میں آ گئے ہیں کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنی نجی سیکوریٹی کے لیے ایسی گاڑیاں استعمال کیں جو اصلی پولیس گاڑیوں جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ معاملہ فروری میں ان کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کے واقعہ کے بعد سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق، ان کی اضافی سیکوریٹی کی درخواست اب بھی ممبئی پولیس کے زیرِ غور ہے۔
روہت شیٹی۔ تصویر:آئی این این
فلمساز روہت شیٹی پر کم از کم دو نجی اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں (ایس یو وی) پر ’پولیس‘ لکھوانے اور پولیس طرز کی لائٹس لگانے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ۵۲؍سالہ شیٹی گزشتہ دو دہائیوں میں ہندی فلم انڈسٹری کی کئی بڑی ہٹ فلموں کے ہدایتکار رہے ہیں، جن میں سنگھم سیریز، چنئی ایکسپریس، اور گول مال فرنچائز شامل ہیں، جس کی پانچویں فلم اس وقت ممبئی میں زیرِ تکمیل ہے۔

یہ دونوں اقدامات غیر قانونی ہیں اور موٹر وہیکلز ایکٹ ۱۹۸۸ء (ترمیم شدہ ۲۰۱۹ء) کی دفعہ ۱۷۷؍ کے تحت قابلِ سزا ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کسی بھی گاڑی کو ان نشانات یا لائٹس کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔مڈڈے کے پاس ان دونوں ایس یو ویزکی تصاویر موجود ہیں اور ٹریفک حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ گاڑیاں شیٹی کی ملکیت ہیں۔ اس سال کے آغاز میں معروف فلم ساز اور ٹی وی میزبان کو ہفتہ کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں اور یکم فروری کی علی الصباح ان کے گھر کے باہر فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق، بشنوئی گینگ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
فائرنگ کے چند ہفتوں بعد، شیٹی نے ممبئی پولیس کمشنر دیون بھارتی کو خط لکھ کر اپنی اور اپنی آنے والی فلم گول مال ۵؍ کی کاسٹ اور عملے کے لیے اضافی سیکوریٹی کی درخواست کی۔ اس فلم میں اکشے کمار، اجے دیوگن، شریاس تلپڑے، ارشد وارثی، اور تشار کپور شامل ہیں۔
پولیس کی جانب سے کوئی جواب نہیں
مڈ ڈے نے ممبئی پولیس کے اعلیٰ افسران سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی، جن میں کمشنر دیون بھارتی، جوائنٹ کمشنرز ستیانارائن چودھری (لاء اینڈ آرڈر) اور انیل کمبھارے (ٹریفک)، ڈی سی پی آپریشنز کے سیکوریٹی و پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر افسر، اور پولیس کے پی آر او شامل تھے، لیکن منگل کی رات ساڑھے ۱۰؍ بجے تک کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھئے:بوسنیا سے ہار کر اٹلی فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء سے باہر، مسلسل تیسری بار موقع گنوا دیا
قانونی پہلو
ایک سینئر ٹریفک افسر نے کہا’’نجی گاڑیوں پر ’POLICE‘ لکھنا یا پولیس لائٹس کا استعمال غیر قانونی ہے۔ صرف سرکاری پولیس گاڑیوں کو ہی اس کی اجازت ہے۔” ریجنل ٹرانسپورٹ آفس (RTO) کے ریکارڈ کے مطابق، یہ دونوں ایس یوویزشیٹی کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہیں، نہ کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کے نام پر۔ ایک سینئر آر ٹی او افسر نے کہا کہ موٹر وہیکلز ایکٹ ۱۹۸۸ء (ترمیم شدہ ۲۰۱۹ء) کے تحت نجی گاڑی پر ‘پولیس’ اسٹیکر، لوگو یا بورڈ لگانا دفعہ ۱۷۷؍ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ ایک آر ٹی او انسپکٹر نے بتایا کہ ایسے معاملات سامنے آنے پر مقامی پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’آخری سپر اسٹار‘‘ کا تصور غلط ہے: عامر خان
سماجی کارکن کا ردِ عمل
حقِ اطلاعات ایکٹ کے کارکن انیل گلگلی، جنہوں نے سرکاری اہلکاروں کے غیر قانونی سائرن استعمال کرنے کے معاملات بے نقاب کیے ہیں، نے کہا کہ ’پولیس‘ کے نشانات، غیر مجاز نیم پلیٹس، اور غیر قانونی فلیشنگ لائٹس کا استعمال سنگین خلاف ورزی ہے اور’’عوامی تشویش کا باعث‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شیٹی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور ان گاڑیوں سے فوری طور پر یہ خلاف ورزیاں ختم کی جائیں۔ مزید یہ کہ اس بات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کس کی اجازت، غفلت یا ممکنہ ملی بھگت سے یہ سب ممکن ہوا۔