Updated: September 03, 2026, 8:05 PM IST
| Mumbai
معروف شاعر، نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے اپنے بیٹے اور اداکار و فلم ساز فرحان اختر کے بچپن سے جڑا ایک دلچسپ واقعہ شیئر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب فرحان کی عمر صرف ۸؍ سال تھی تو ایک دن اس نے ان سے ایک ایسا سوال کیا جس نے مذہب، شناخت اور خاندانی پرورش سے متعلق ایک سنجیدہ گفتگو کو جنم دیا۔
جاوید اختراور فرحان اختر۔ تصویر:آئی این این
معروف شاعر، نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے اپنے بیٹے اور اداکار و فلم ساز فرحان اختر کے بچپن سے جڑا ایک دلچسپ واقعہ شیئر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب فرحان کی عمر صرف ۸؍ سال تھی تو ایک دن اس نے ان سے ایک ایسا سوال کیا جس نے مذہب، شناخت اور خاندانی پرورش سے متعلق ایک سنجیدہ گفتگو کو جنم دیا۔
جاوید اختر نے ایک تقریب کے دوران اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کم عمری میں فرحان نے ان سے پوچھا، ’’کیا ہم مسلمان ہیں؟‘‘ اس سوال کے ذریعے فرحان اس عمر میں اپنی مذہبی شناخت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جاوید اختر کے مطابق، فرحان کا سوال اس وقت سامنے آیا جب وہ ابھی بہت چھوٹے تھے اور اپنے اردگرد موجود مذہبی شناختوں اور معاشرتی تصورات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جاوید اختر نے اس واقعہ کو اپنے بچوں کی پرورش کے اس ماحول سے جوڑا جس میں مذہب کے معاملے میں کھلے ذہن، شمولیت اور سیکولر اقدار کو اہمیت دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:ہیری پوٹر سیریز کا نیا ٹریلر جاری، جادوگروں کی نئی نسل ہاگ وارٹس پہنچ گئی
ان کے مطابق، بچوں کے ذہن میں اس طرح کے سوالات آنا فطری بات ہے اور والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے سوالات کو دبانے کے بجائے انہیں سمجھنے اور سوچنے کا موقع دیں۔ جاوید اختر طویل عرصے سے اپنے سیکولر اور ملحدانہ خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب کے حوالے سے بچوں کی تربیت میں کسی ایک نظریے کو زبردستی مسلط کرنے کے بجائے انہیں سوال کرنے، سوچنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی آزادی دینی چاہیے۔
فرحان اختر کے بچپن کا یہ واقعہ بھی اسی وسیع تر سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مذہبی شناخت کے بارے میں بچوں کے سوالات کو خوف یا دباؤ کے بجائے مکالمے کے ذریعے سمجھایا جانا چاہیے۔ جاوید اختر نے اپنے بچوں کی پرورش کے حوالے سے ہمیشہ شمولیت اور رواداری کو اہمیت دینے کی بات کی ہے۔ فرحان اور ان کی بہن زویا اختر نے فلمی دنیا میں اپنی الگ شناخت بنائی جبکہ جاوید اختر اور ان کی اہلیہ اداکارہ شبانہ اعظمی بھی مختلف سماجی اور عوامی معاملات پر اپنے خیالات کے لیے معروف ہیں۔
فرحان کا۸؍ سال کی عمر میں مذہب سے متعلق سوال کرنا اس بات کی مثال کے طور پر سامنے آیا کہ بچے اپنے اردگرد کے سماجی ماحول کو کس طرح محسوس کرتے اور اس کی بنیاد پر اپنی شناخت سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس واقعہ کے ذریعے جاوید اختر نے بالواسطہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ مذہب اور شناخت جیسے موضوعات پر بچوں کے ساتھ کھلی گفتگو ضروری ہے۔ ان کے مطابق، بچوں کو سوال کرنے سے روکنے کے بجائے انہیں مختلف خیالات کو سمجھنے اور اپنی سوچ پیدا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:توحید ہردوئے کی ریکارڈ ساز اننگز نے ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے پر پھر دستک دے دی
جاوید اختر کی یہ یاد دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان میں مذہب، شناخت، سیکولرازم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر بحث مسلسل جاری رہتی ہے۔ ان کے بیان نے ایک بار پھر ان کے خاندانی ماحول اور بچوں کی پرورش میں سیکولر اقدار کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ فرحان اختر نے اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری، پروڈکشن اور اسکرین رائٹنگ میں بھی اپنی شناخت قائم کی ہے۔ وہ فلمی دنیا میں اپنے والد جاوید اختر اور والدہ شبانا اعظمی کے مضبوط فلمی ورثے کے باوجود اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ جاوید اختر کا فرحان کے بچپن سے متعلق یہ واقعہ اس بات کی ایک جھلک پیش کرتا ہے کہ ایک معروف فلمی خاندان میں بچوں کی پرورش کے دوران مذہب، شناخت اور سماجی اقدار جیسے موضوعات پر کس طرح گفتگو ہوتی رہی۔